کراچی میں شکارپور حملے کے خلاف دھرنا

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption خواتین کی ایک بڑی تعداد بھی احتجاج میں شریک تھی

کراچی میں شکارپور امام بارگاہ میں ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین کا دھرنا گزشتہ چوبیس گھنٹوں سے جاری ہے، منگل کی شب شہدا کمیٹی کے زیر انتظام یہ لانگ مارچ کراچی میں داخل ہوا تھا، جس کا وادی حسین قبرستان اور بعد میں انچولی امام بارگاہ کے قریب استقبال کیا گیا ۔

لانگ مارچ کے شرکا نے وزیر اعلیٰ ہاؤس کے باہر دھرنا دینے کا اعلان کیا تھا لیکن حکومت نے وزیر اعلیٰ ہاؤس سمیت ریڈ زون میں جلسے جلوس پر پابندی عائد کردی، جس وجہ سے شرکا نے ایم اے جناح روڈ پر نمائش چورنگی پر دھرنا دے دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption احتجاج میں خواتین حملے میں ہلاک ہونے والے اپنے بچوں کی تصاویر لے کر کھڑی تھیں

مرکزی شاہراہ پر دہرنے کی وجہ سے شہر میں سارا دن بری طرح سے ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی یہ سلسلہ رات تک جاری رہا۔

لانگ مارچ کے قائدین کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت کی جانب سے مثبت پیش رفت نظر آئی ہے جب تک مطالبات کو عملی جامعہ نہیں پہنایا جائے گا اس وقت تک دھرنا جاری رہے گا ۔

حکومت سندھ کی جانب سے شہداء کمیٹی کے وفد کو مذاکرات کے لیے وزیر اعلیٰ ہاؤس طلب کیا گیا، جہاں وزیر اعلیٰ ، ڈی جی رینجرز ،آئی جی سندھ صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن اور دیگر حکام کی موجودگی میں مذاکرات کیے گئے جو تین گھنٹے جاری رہے ۔

ان مذاکرات کے بعد شیعہ رہنما واپس دھرنے میں پہنچے۔ مارچ کے سربراہ علامہ مقصود ڈومکی نے شرکا کو بتایا کہ مذاکرات میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔ انھوں نے اپنے مطالبات حکومت کو دیئے ہیں لیکن انھیں عملی جامعہ نہیں پہنایا گیا لہذا ابھی دھرنہ جاری رہے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ epa
Image caption احتجاج کرنے والوں کا حکومت سے مطالبہ ہے کہ وہ شیعہ برادری کے خلاف دہشت گردی روکنے کے لیے ٹھوس اقدام کرے

یاد رہے کہ شرکا کا کہنا ہے کہ ان کا مطالبہ کہ کراچی کے علاوہ بھی شدت پسند تنظیموں کے خلاف کارروائی کی جائے، امام بارگاہ دھماکے میں ملوث ملزمان کی گرفتار ی عمل میں لائی جائے۔

سینئر صوبائی وزیر نثار کھوڑو نے منگل کو سندھ اسمبلی کو بتایا تھا کہ مارچ کے شرکا سے مذاکرات کے تین دور ہوئے جو کامیاب نہیں ہوسکے حکومت تمام مطالبات ماننے کے لیے تیار تھی لیکن مارچ کے شرکا کا کہنا تھا کہ کراچی پہنچ کر مذاکرات کیے جائیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اس سے قبل بھی شیعہ برداری پر ہونے والے حملوں پر احتجاجی دھرنے کیے جاتے رہے ہیں

بدھ کو وزیر اعلیٰ ہاؤس میں مذاکرات کے بعد صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن کا کہنا تھا کہ مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں مسودے کو حتمی شکل دینے کے بعد اس کا حتمی اعلان کیا جائے گا۔

اسی بارے میں