کوئٹہ پریس کلب کے عیسائی ارکان کو دھمکی

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پاکستان میں صحافیوں پر حملوں کے خلاف کئی احتجاجی مظاہرے ہو چکے ہیں

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں پریس کلب کو دھمکی آمیز خطوط موصول ہوئے ہیں جس میں متنبہ کیا گیا ہے کہ چار عیسائی صحافیوں کو بے دخل کیا جائے ورنہ وہ فدائی حملہ کر سکتے ہیں۔

کوئٹہ پریس کلب کی انتظامیہ نے اس شک کا اظہار کیا ہے کہ یہ خطوط صحافیوں کی آپس میں چپقلش کا نتیجہ بھی ہو سکتا ہے کیونکہ گذشتہ دنوں انتظامیہ نے سرکاری ملازمت رکھنے والے بعض صحافیوں کی رکنیت منسوخ کر دی تھی۔

شوریٰ فدایان اسلام کوئٹہ نامی غیر معروف گروہ نے اردو زبان میں خط بھیجا ہے، جس میں پریس کلب کی انتظامیہ کو کہا گیا ہے کہ وہ خود کو مسلمان کہتے ہیں جبکہ تمہارے زیر سایہ عیسائی صحافی تبلیغ کر رہے ہیں۔

اس مشتبہ لیٹر میں فوٹو گرافر موسیٰ کاظم، کیلون اور نسیم مسیح کا نام لے کر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ تبلیغ کر رہے ہیں اور انہیں بعض بلوچ صحافیوں کی بھی حمایت حاصل ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ پریس کلب اپنے طور پر ان عیسائی صحافیوں کو پریس کلب سے بے دخل کر دے ورنہ شوریٰ کے فیصلے کے مطابق انھیں پناہ دینے اور ان کا ساتھ دینے پر فدائی حملہ کیا جا سکتا ہے۔

کوئٹہ پریس کلب کے صدر رضا رحمان نے خط میں عائد الزامات کو من گھڑت قرار دیا اور کہا کہ پریس کلب میں کوئی تبلیغ نہیں کر رہا ہے اور وہاں ایسی کوئی سرگرمی نہیں ہوتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بلوچستان یونین آف جرنلسٹ کے مطابق گذشتہ 10 سالوں میں 40 صحافی ہلاک ہوئے ہیں

فوٹوگرافر موسیٰ کاظم کا کا کہنا ہے کہ پریس کلب میں 120 اراکین ہیں لیکن انہیں ہی کیوں لیٹر بھیجے گئے ہیں یہ بات ان کی سمجھ سے بالاتر ہے، وہ کبھی کسی سے مذہب کے حوالے سے بات نہیں کرتے۔

1984 سے فوٹو گراف جرنلسٹ موسیٰ کاظم کا کہنا ہے کہ’ اس پیشے کے 30 برسوں میں نہ کبھی دھمکی ملی اور نہ ہی کبھی مزاحمت یا مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ اور دھماکی آمیز خط ملنے کے بعد کام پر نہیں جا رہے کیونکہ گھر سے آنے جانے میں خوف محسوس ہوتا ہے۔‘

نسیم مسیح نے بھی موسیٰ کی طرح اپنی سرگرمیاں محدود کردی ہیں۔ نسیم کے مطابق وہ 18 برسوں سے اس شعبے سے منسلک ہیں اور بنا کسی تقریق کے تمام ہی تنظیموں کے جلسے جلوسوں کی کوریج کرتے رہے ہیں اس دوران کبھی کسی نے بدتمیزی یا دھمکی نہیں دی تمام لوگ انہیں نام سے جانتے ہیں۔

نسیم کہتے ہیں کہ اس لیٹر میں جس قسم کی باتیں لکھی گئی ہیں اس سے معاملہ کافی سنجیدہ لگتا ہے اور ان کا خاندان بھی کافی پریشان ہے۔

’یہ ملازمت چھوڑ دوں لیکن روزگار چھوڑنا آسان نہیں کیونکہ ان کا یہ واحد ذریعہ معاش ہے کچھ دوست ساتھی کہتے ہیں کہ کوئٹہ سے چلے جاؤں اب کہاں جائیں کیونکہ گھر، بچوں کی تعلیم اور روزگار سب کچھ یہاں ہے۔‘

بلوچستان صحافیوں کے لیے خطرناک ثابت ہوا ہے۔ بلوچستان یونین آف جرنلسٹ کے مطابق گذشتہ 10 سالوں میں 40 صحافی ہلاک ہوئے ہیں، جن میں چند ماہ قبل کوئٹہ میں ایک خبر رساں ادارے کے دفتر پر حملہ کر کے تین صحافیوں کو ہلاک کیا گیا تھا۔

کوئٹہ پریس کلب کے صدر رضا رحمان کے مطابق ماضی میں بعض سیاسی اور مذہبی جماعتیں پریس کلب کے باہر تقاریر کر کے لائیو کوریج اور اخبارات میں نمایاں کوریج کے لیے دھمکیاں دے کر جاتی رہی ہیں۔

پریس کلب کی شکایت پر پولیس نے مقدمہ درج کیا ہے۔ رضا رحمان کا کہنا ہے کہ پولیس چیف نے یقین دہانی کرائی تھی کہ سکیوٹی فراہم کی جائے گی لیکن ابھی تک پریس کلب کا انحصار اپنی سکیورٹی پر ہے۔

کوئٹہ پریس کلب کی انتظامیہ نے اس شک کا اظہار کیا ہے کہ یہ خطوط صحافیوں کی آپس میں چپقلش کا نتیجہ بھی ہو سکتا ہے کیونکہ گذشتہ دنوں انتظامیہ نے سرکاری ملازمت رکھنے والے بعض صحافیوں کی رکنیت منسوخ کر دی تھی۔

کوئٹہ پریس کلب کے صدر رضا رحمان کا کہنا ہے کہ لیٹر میں پریس کلب کے کارڈ روم، جم اور کمپیوٹر روم کا ذکر کیا گیا ہے جہاں اکثر یہ چاروں فوٹو گرافر دیگر ساتھیوں کے ہمراہ موجود ہوتے ہیں اور یہ بات باہر کہ کسی شخص کو معلوم نہیں ہو سکتی اس لیے انہیں کچھ شبہ ہے کہ اندرونی معاملہ ہو سکتا ہے۔

اسی بارے میں