’شکارپور میں شدت پسندوں کے مراکز، مدارس کے خلاف کارروائی ہوگی‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption حکومت نے اس بات پر بھی رضامندی کا اظہار کیا کہ شکارپور امام بارگاہ دھماکے کی جوائنٹ انویسٹی گیشن ہوگی جس کی تفصیلات شہدا کمیٹی کے ساتھ شیئر کی جائیں گی اور یہ مقدمہ فوجی عدالت میں چلایا جائے گا

حکومت سندھ اور شکارپور امام بارگاہ دھماکے کے متاثرین کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں جس کے بعد شیعہ تنظیموں نے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

وزیر اعلیٰ ہاؤس میں شہدا کمیٹی اور حکومتی اراکین نے جمعرات کو ایک پریس کانفرنس کے ذریعے مذاکرات کی کامیابی کا اعلان کیا۔

صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے معاہدے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے میڈیا کو آگاہ کیا کہ شکارپور میں سندھ ایپکس کمیٹی کی زیر نگرانی پولیس اور رینجرز آپریشن کرے گی جس میں دہشت گردوں کے مراکز اور مدارس کے خلاف بھی کارروائی ہوگی۔

حکومت نے اس بات پر بھی رضامندی کا اظہار کیا کہ شکارپور امام بارگاہ دھماکے کی جوائنٹ انویسٹی گیشن ہوگی جس کی تفصیلات شہدا کمیٹی کے ساتھ شیئر کی جائیں گی اور یہ مقدمہ فوجی عدالت میں چلایا جائے گا۔

صوبائی حکومت نے شہدا کمیٹی کو اہل تشیع مدارس اور امام بارگاہوں کو سکیورٹی فراہم کرنے، اسلحہ لائسنس کے اجرا، صوبے میں کالعدم تنظیموں کی سرگرمیاں روکنے جھنڈے اور وال چاکنگ ہٹانے کی بھی یقین دہانی کرائی ہے۔

صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے بتایا کہ غیر ملکیوں بشمول ازبک، چیچن اور افغانی شہریوں کے خلاف کارروائی کرنے، دہشت گردی میں ملوث تمام گروہوں اور مدارس کے خلاف کارروائی پر اتفاق ہوا ہے۔

حکومتی کی یقین دہانیوں کے بعد شہدا کمیٹی کے سربراہ مقصود علی ڈومکی نے کراچی میں جاری دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ جمہوری اور منتخب حکومت کے خلاف نہیں بلکہ مذہبی منافرت اور دہشت گردی کے خلاف تحریک چلا رہے تھے۔

انہوں نے کامیاب مذاکرات کے بعد اس امید کا اظہار کیا کہ دہشت گردی اور مذہبی مافرت میں ملوث گروہوں کے خلاف کارروائی کی جائیگی۔

یاد رہے کہ شکارپور سے اتوار کو اس لانگ مارچ کا آغاز کیا گیا تھا اور منگل کی شب یہ مارچ کراچی میں داخل ہوا تھا جہاں نمائش چورنگی پر دھرنا دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں