’پولیو کے قطرے پلانے سے انکاری والدین کی تعداد میں کمی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گذشتہ سال میں پولیو سے متاثرہ مریضوں کی تعداد دو سو سے تجاوز کر گئی تھی

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں محکمۂ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ سیاسی جماعتوں کی جانب سے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کی کھل کر حمایت کرنے کی وجہ سے پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کرنے والے والدین کی تعداد میں کمی آ رہی ہے۔

پشاور میں انسداد پولیو کےلیے بنائے گئے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے مانٹرنگ سیل کے انچارج ڈاکٹر امتیاز علی شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ دو دن پہلے مکمل کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق انسداد پولیو مہم کے دوران پورے صوبے سے اب تک تقریباً 30 ہزار کے قریب انکاری کیسسز سامنے آئے ہیں جو کہ پہلے کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس مہم کے دوران صوبے کے تمام اضلاع میں 53 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے گئے جبکہ اس کے مقابلے میں والدین کی طرف سے انکار کا تناسب بہت کم رہا۔

انہوں نے کہا کہ جن والدین نے بچوں کو قطرے دینے سے انکار کیا ہے ان کو ابھی مکمل طورپر چھوڑ نہیں دیا گیا ہے بلکہ ان کے ساتھ علماء کرام اور مقامی انتظامیہ کے ذریعے بات چیت کا سلسلہ جاری ہے تاکہ ان کے بچوں کو قطرے پلائے جا سکیں۔

امتیاز علی شاہ کے مطابق ان انکاری کیسسز میں وہ بچے بھی شامل ہیں جو مہم والے دن کسی وجہ سے گھر پر موجود نہیں تھے تاہم رہ جانے والے بچوں کو قطرے پلانے کےلیے پولیو ٹیمیں بدستور کام کر رہی ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ ضلع مردان میں پچھلے چند سالوں کے دوران ہر مہم میں سات سے 10 ہزار کے قریب والدین قطرے پینے سے انکار کیا کرتے تھے لیکن حالیہ مہم میں چار سو کے قریب انکاری کیسز سامنے آئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پاکستان میں پولیو مہم میں حصہ لینے والے رضاکاروں اور سکیورٹی اہلکاروں پر حملوں کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے

ڈاکٹر امتیاز کے مطابق سیاسی جماعتوں کی طرف سے اب بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کی کھول کر حمایت کی جا رہی ہے۔ جس کا اثر بھی پڑ رہا ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ انکاری کیسز بھی کم ہو رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ مختلف اضلاع کے مقامی انتظامیہ نے بھی اس حوالے سے اہم کردار ادا کیا ہے اور ان علاقوں پر خصوصی توجہ دی گئی ہے جہاں انکاری کیسسز زیادہ رہے ہیں۔

خیال رہے کہ گذشتہ سال میں پولیو سے متاثرہ مریضوں کی تعداد دو سو سے تجاوز کر گئی تھی جو کہ پچھلے 14 سالوں میں ایک ریکارڈ تھا۔

پاکستان میں پولیو کے مریضوں کی تعداد میں اضافے کی وجہ والدین کی جانب سے قطرے پلوانے سے انکار اور پولیو کے خلاف چلائی جانے والی مہم کے عملے پر بڑھتے ہوئے حملوں کو قرار دیا جاتا ہے۔

پاکستان میں اب تک سب سے زیادہ پولیو کے کیسسز قبائلی علاقہ جات اور خیبر پختونخوا سے سامنے آئے ہیں جہاں مذکورہ وجوہات کی بنا پر ہزاروں بچے پولیوکے قطرے پینے سے محروم رہے ہیں۔

اسی بارے میں