’ڈبل اے‘ کے ساتھ جھگڑا ہے: ذوالفقار مرزا

تصویر کے کاپی رائٹ Tribune
Image caption ذولفقار مرزا نے 2011 میں وزارت اور سندھ اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دیا تھا

سندھ کے سابق وزیر داخلہ اور پیپلز پارٹی کے رہنما ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کا کہنا ہے کہ اگر سچ اور حق کی بات کرنے پر انہیں پارٹی سے نکال دیا جاتا ہے تو اس عمل سے نکالنے والوں کی سوچ اور سمجھ کی عکاسی ہوتی ہے۔

بی بی سی سے گفتگو میں سابق صوبائی وزیرداخلہ ذوالفقار مرزا نے کہا کہ انھوں نے جو الزامات عائد کیے تھے پارٹی قیادت کو ان کی تحقیقات کرنی چاہیے تھی۔

ڈاکٹر ذوالفقار مرزا سندھ کی گزشتہ حکومت میں وزیر داخلہ رہے اور انھوں نے ایم کیو ایم پر سخت موقف اختیار کیا تھا۔

وہ 2011 میں ایک پریس کانفرنس کے ذریعے وزرات اور اسمبلی رکنیت سے مستعفی ہوگئے تھے، پارٹی قیادت پر الزامات کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی نے دو روز قبل ہی ان سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔

پاکستان کے میڈیا میں ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کی لندن روانگی سے قبل یہ خبریں بھی منظر عام پر آئیں تھیں کہ وہ وہاں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلال بھٹو سے ملاقات کریں گے، بی بی سی لندن سے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر مرزا کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو سے ان کی ملاقات نہیں ہوئی اور نہ ہی انھوں نے کوئی سنجیدہ کوشش کی ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اگر وہ کوشش بھی کریں تو بلاول کے گرد جو سرکل ہے جو ان کے دوست آصف علی زرداری کا دیا ہوا ہے ملاقات کی اجازت نہیں دے گا۔

کراچی میں دو روز قبل صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام نے پریس کانفرنس میں الزام عائد کیا تھا کہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزانے بلاول بھٹو اور آصف علی زرداری کے درمیان اختلافات پیدا کرنے کی کوشش کی تھی۔

ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کا کہنا تھا کہ ان کی ابھی خود ساختہ زبان بندی جاری تھی ان دنوں ہی بلاول باہر گئے تھے اس وقت یہ تمام معاملات سامنے آئے تھے اور یہ بات انھوں نے نہیں گھڑی بلکہ پوری دنیا ان اختلافات کی بات کہہ رہی تھی اور ساتھ میں قائم علی شاہ اور فریال ٹالپور کے علاوہ آصف زرداری بھی وضاحت کر رہے تھے۔

’اب کسی والد کو اپنے فرمانبرداری بیٹے کے لیے وضاحت پیش کرنے کی کیا ضرورت ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ لندن میں مخدوم امین فہیم سے ان کا کوئی رابطہ نہیں ہوا اور یہ جنگ وہ اکیلے لڑ رہے ہیں کیونکہ جتنا وہ آصف علی زرداری کے قریب رہے ہیں اور کوئی نہیں رہا بقول ان کے بینظیر بھٹو سے شادی کی سوچ آنے سے پہلے ان کی آصف سے دوستی ہوئی تھی ان دنوں یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ ڈاکٹر بنیں گے یا آصف کی شادی بینظیر کے ساتھ ہوگی اور وہ ایک دم راکٹ پر بیٹھ کر آسمان چھونے لگیں گے۔

’ میری ذات اور خاندان کے کچھ اصول ہیں جو انصاف اور انسایت پر مبنی ہیں، 45 سال کی دوستی میں کبھی آصف کو نہ یا کیوں؟ نہیں کہا۔ پارٹی کے ساتھ اتنی طویل وابستگی اور قربانیاں اس لیے نہیں دیں کہ پارٹی کو دکانداری میں تبدیل کردیا جائے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ذولفقار مرزا پر الزام عائد کیا گیا کہ وہ آصف زرداری اور بلاول بھٹو میں اختلافات کے ذمہ دار ہیں۔

ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کا کہنا تھا کہ پہلے وہ ایک اے یعنی الطاف حسین سے خطرہ محسوس کرتے تھے اور اب دوسرا اے بھی ان سے ناراض ہوگیا ہے۔ اب ان کا ڈبل اے کے ساتھ جھگڑا ہے۔

انھوں نے تصدیق کی کہ سندھ حکومت نے سابق صوبائی وزیر داخلہ اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی کے حوالے سے سیکیورٹی فراہم کی تھی وہ بھی واپس لے لی گئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ وہ ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو کی سیاسی جدوجہد سے متاثر تھے اور اب بلاول بھٹو کی پیروی کرتے ہیں جو بھی پارٹی اور شخصیت اس سوچ کے قریب ہوگا اس کی سپورٹ کریں گے۔

ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کی بیگم فہمیدہ مرزا اور بیٹا اس وقت رکن اسمبلی ہیں، ان کا کہنا تھا کہ وہ باشعور ہیں اور ان سے بہتر طرح سیاست کو سمجھتے ہیں لیکن بعض معاملات پر ان کے بھی پارٹی کی قیادت سے اختلافات موجود ہیں۔

اسی بارے میں