لورالائی: کان میں پھنسے چھ مزدوروں کی ہلاکت کا خدشہ

Image caption بلوچستان میں کوئلے کی کان کنی سب سے بڑی صنعت ہے

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع لورالائی میں کوئلے کی کان میں پھنسے چھ کان کنوں کو 30 گھنٹے بعد بھی باہر نہیں نکالا جا سکا ہے اور حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ کان کن ہلاک ہو چکے ہیں۔

یہ چھ کان کن جمعرات کے روز ضلع لورالائی کے علاقے دکّی میں ایک کان میں حادثہ پیش آنے کی وجہ سے پھنس گئے تھے ۔

مقامی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ابھی تک حادثے کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی ہے لیکن ابتدائی معلومات کے مطابق گیس جمع ہونے کے باعث کان میں دھماکے کی وجہ سے کان کن وہاں پھنس گئے۔

اہلکار کا کہنا تھا کہ ’پھنسے ہوئے کان کنوں کو بچانے کے مزید 16 کان کن کان میں گئے لیکن وہ بھی گیس کی وجہ سے بے ہوش ہوگئے۔‘

ان کے مطابق پھنسے ہوئے کان کنوں کو بچانے کے لیے جانے والے کان کنوں میں سے بھی ایک ہلاک ہوگیا جبکہ باقی کو بحفاظت نکال لیا گیا۔

محکمہ مائنز کی جانب سے پھنسے ہوئے کان کنوں کو نکالنے کے لیے ریسکیو کا کام جاری ہے لیکن 30گھنٹے سے زائد وقت گزرنے کے بعد بھی ان کو زندہ یا مردہ حالت میں نکالنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوسکیں۔

انتظامیہ کے اہلکار نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ پھنسے ہوئے تمام کان کن ہلاک ہوچکے ہیں ۔

پاکستان سینٹرل مائنز لیبر فیڈریشن کے سیکریٹری جنرل لالہ سلطان محمد کا کہنا ہے کہ محکمہ مائنز کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے کانوں میں حادثات کی صورت میں پھنسے ہوئے کان کنوں کو فوری طور پر نہیں نکالا جا سکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ فوری طور پر امداد نہ ملنے کی وجہ سے کان کنوں کا زندہ بچنا ممکن نہیں ہوتا۔ لالہ سلطان محمد نے بتایا کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ساڑھے چار سو سے زائد کوئلے کی کانیں ہیں ۔

ان کا کہنا تھا کہ حفاظتی انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے کوئلے کی کانیں عملی طور پر موت کے کنوؤں کی شکل اختیار کر چکی ہیں کیونکہ حفاظت کے مناسب انتظامات نہ ہونے باعث کان کنوں کی زندگیوں کو ہر وقت خطرہ لاحق رہتا ہے

یاد رہے کہ کوئلے کی کان کنی بلوچستان کی سب سے بڑی صنعت ہے ۔

اسی بارے میں