اسلام آباد: اہلِ خانہ کے قتل کے بعد خاتون کی خودکشی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption قاتلانہ حملے میں حملہ آور خاتون کا بیٹا بچ گیا

پاکستان کے وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں گھریلو ناچاقی کے ایک واقعے میں بیوی نے شوہر اور تین بچیوں کو قتل کرنے کے بعد خود کشی کر لی۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق یہ واقعہ اسلام آباد کے سیکٹر جی 6/1 میں سنیچر کی صبح پیش آیا۔

انھوں نے بتایا کہ مقتول فاروق خٹک نجی پیٹرول کمپنی میں ملازم تھے۔

ان کے اکلوتے بیٹے عمیر اس حملے میں گولی لگنے سے زخمی ہوئے۔

12 سالہ عمیر نے بی بی سی کو بتایا کہ والدہ نے پہلے فاروق خٹک کوگولی ماری، پھر عمیر کو اور اس کے بعد تینوں بیٹیوں کو گولی مار کر ہلاک کیا اور پھر اپنی کنپٹی پر پستول رکھ کر خود کو گولی ماری۔

’امی نے مجھے بھی گولی ماری تو میں نے ظاہر کیا کہ میں مر گیا ہوں جس کے بعد انھوں نے میری تینوں بہنوں کو گولیاں ماریں۔‘

عمیر کے مطابق سب گھر والوں کا سنیچر کو لیک ویو پارک جانے کا پروگرام تھا اور سب معمول کے مطابق اٹھے۔

تاہم ان کے مطابق گذشتہ شب ڈھائی بجے ان کے والدین میں لڑائی ہوئی تھی۔

نامہ نگار کے مطابق فاروق خٹک اور ان کی تین بیٹیاں جن کی عمریں دس، آٹھ اور چھ سال بتائی جاتی ہیں موقع پر ہی ہلاک ہوگئیں تھیں۔

واقعے کے بعد پولیس جائے وقوعہ پر پہنچ گئی جبکہ تفتیش کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا ہے اور ہلاک شدگان کا پوسٹ مارٹم بھی کیا جا رہا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اہل محلہ بتاتے ہیں کہ دونوں میاں بیوی کے درمیان اکثر اوقات لڑائی ہوتی رہتی تھی۔

اسی بارے میں