کان حادثے کے سات کان کنوں کی لاشوں کو نکال لیا گیا

Image caption کوئلے کی کان میں حادثہ ضلع کے علاقے دکی میں 19 فروری کو پیش آیا تھا

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع دکی میں کوئلے کی کان میں حادثے کے باعث ہلاک ہونے والے سات کان کنوں کی لاشوں کو تین روز بعد نکال لیا گیا۔

کوئلے کی کان میں حادثہ ضلع کے علاقے دکی میں 19 فروری کو پیش آیا تھا۔

حادثے کے وقت کان کے اندر سات کان کن کام میں مصروف تھے جو کان کے بیٹھ جانے سے دب گئے تھے۔

اتوار کو 72 گھنٹے کے بعد تمام لاشوں کو نکالنے کا کام مکمل ہوگیا۔

جس وقت کان میں یہ حادثہ پیش آیا تھا تو متعلقہ محکمے کی جانب سے انھیں بچانے کے لیے فوری طور پر امدادی کام شروع نہیں کیا گیا تھا۔

کان میں موجود کان کنوں نے اپنی مدد آپ کے تحت کوشش کی جس کے دوران ایک اور کان کن بے ہوش ہوکر ہلاک ہوا تھا۔

مائنز انسپییکٹوریٹ کے ایک اہل کار نے بی بی سی کو بتایا کہ کان کنوں کی لاشوں کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے ان کے آبائی علاقوں میں تدفین کے لیے روانہ کردیا گیا۔

ہلاک ہونے والے آٹھ کان کنوں میں سے سات کا تعلق شانگلہ اورایک کا تعلق سوات سے تھا۔

سرکاری سطح پر تاحال اس حادثے کی وجوہات کے بارے میں نہیں بتایا گیا تاہم بلوچستان میں کوئلے کی کانوں میں زیادہ تر حادثات زہریلی گیس بھر جانے کی وجہ سے پیش آتے ہیں۔

بلوچستان میں کوئلے کی کانوں میں 60 ہزار سے زائد کان کن کام کرتے ہیں جن میں سے ایک بہت بڑی تعداد کا تعلق خیبر پشتونخوا کے علاقوں سوات اور شانگلہ سے ہے۔

کوئلے کی کان کنی بلوچستان کی سب سے بڑی صنعت ہے۔

بلوچستان کی کوئلے کی کانوں میں جدید اور مناسب حفاظتی انتظام نہ ہونے کی وجہ سے کان کنوں کی جانوں کو ہر وقت خطرہ لاحق رہتا ہے۔

اسی بارے میں