’پاکستان دولتِ اسلامیہ کی سرگرمیوں سے غافل نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption دولتِ اسلامیہ یا داعش بنیادی طور پر شام اور عراق میں سرگرم ہے لیکن پاکستان میں اس کی حمایت میں وال چاکنگ دیکھی گئی ہے

پاکستان کے سیکریٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری نے کہا ہے کہ حکومت شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کی ممکنہ سرگرمیوں اور کارروائیوں سے غافل نہیں ہے اور اس تنظیم سے تعلق رکھنے والے افراد اور دیگر کالعدم تنظیموں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جا رہی ہے۔

انھوں نے یہ بات پیر کو پارلیمنٹ ہاؤس میں خارجہ امور سے متعلق ایوان بالا کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے کہی۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پاکستان میں نیا جہادی بھنور

کیا داعش ٹی ٹی پی کی مدد کر سکتی ہے؟

اعزاز چوہدری کا کہنا تھا کہ پاکستانی عوام کی داعش کے ساتھ نہ تو نظریاتی اور نہ ہی جغرافیائی وابستگی ہے لیکن دنیا بھر میں دولتِ اسلامیہ کی شدت پسندانہ کارروائیوں کو کسی طور پر بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

سیکریٹری خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کچھ کالعدم تنظیموں کے ارکان دولتِ اسلامیہ کے ساتھ روابط کا دعویٰ کر رہے ہیں اور سکیورٹی اور خفیہ ادارے ایسی کالعدم تنظیموں پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

اعزاز چوہدری کا کہنا تھا کہ پاکستانی افواج دولتِ اسلامیہ سمیت کسی بھی کالعدم تنظیم کے خلاف کارروائی میں کسی بھی بین الاقوامی اتحاد کا حصہ نہیں اور وہ اپنے طور پر ہی ان تنظیموں کے خلاف کارروائی کر رہی ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ داعش کی کارروائیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے عالمی برادری بھی اس تنظیم کے خلاف متحرک ہو گئی ہے۔

خارجہ امور کی قائمہ کمیٹی کے چیئرمین حاجی عدیل کے دولتِ اسلامیہ کے ارکان کی پاکستان میں گرفتاری سے متعلق سوال پر سیکریٹری خارجہ نے کہا کہ قومی ایکشن پلان کے تحت ہزاروں افراد گرفتار ہوئے ہیں اور اس امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا کہ ان میں ایسے افراد بھی ہوں جو دولتِ اسلامیہ کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔

واضح رہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ایک دھڑے کے علاوہ اسلام آباد کی جامعہ حفصہ کی کچھ طالبات نے بھی داعش کے ساتھ روابط کا دعویٰ کیا ہے۔

ان طالبات نے دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں سے پاکستان میں آ کر کارروائی کرنے کی بھی درخواست کی تھی۔

اس اقدام پر اسلام آباد پولیس نے قانونی ماہرین سے رائے بھی طلب کی ہے کہ ان طالبات کے خلاف کس قانون کے تحت کارروائی کی جائے۔

یاد رہے کہ گذشتہ برس پاکستانی میڈیا نے بنوں، کراچی، ملتان اور بلوچستان کے بعض علاقوں میں دولتِ اسلامیہ کی حمایت میں وال چاکنگ اور پشاور میں اس حوالے سے پمفلٹس کی تقسیم کی خبریں دی تھیں

تاہم اس وقت پاکستان کے وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا تھا کہ دولتِ اسلامیہ نامی تنظیم کا پاکستان میں کوئی وجود نہیں ہے، اس لیے اس معاملے کو ہوا دینا نامناسب ہے۔

اسی بارے میں