غیر قانونی افغانیوں کے خلاف کئی برسوں میں بڑی کارروائی

Image caption خیبر پختونخوا میں سٹرائیک اینڈ سرچ آپریشن کے دوران مشتبہ افراد کے علاوہ غیر قانونی طور پر مقیم افغانیوں کو بھی گرفتار کیا جا رہا ہے

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخواہ کے دارالحکومت پشاور میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان پناہ گزینوں کے خلاف 35 سالوں میں پہلی مرتبہ پولیس نے بڑے پیمانے پر کارروائیاں شروع کی ہیں۔

نیشنل ایکشن پلان کے تحت پشاور میں رہنے والے ہر شہری کا حکومتی ادارے کے پاس اندراج ہونا صروری ہے۔

پولیس نے پشاور سے 2,100 سے زیادہ غیر قانونی طور پر مقیم افغانیوں کوگرفتار کر کے واپس افغانستان بھیجا ہے۔

پشاور کے سینیئر سپرنٹنڈنٹ پولیس ڈاکٹر میاں سعید کا کہنا ہے کہ غیر قانونی طور پر مقیم افغانیوں کے خلاف کارروائی جاری ہے۔

پشاور کے آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم افغانیوں کے لیے یہ زمین تنگ کر دی گئی ہے۔

پشاور سے روزانہ 15 سے 20 بڑی بسیں اور بڑی تعداد میں چھوٹی گاڑیاں افغانستان جاتی ہیں جبکہ افغانستان سے زیادہ ترگاڑیاں خالی واپس آتی ہیں۔

پشاور میں جمرود روڈ پر واقع افغانستان جانے والی گاڑیوں کے اڈے پر موجود افغانیوں نے بتایا کہ پولیس انھیں بہت تنگ کرتی ہے۔

ایک افغان شہری نور سلام کا کہنا تھا کہ پاکستان میں نہ صرف غیر قانونی طور پر مقیم افغانیوں کو تنگ کیا جاتا ہے بلکہ جو افغانی قانونی طور پر پاکستان میں رہائش پزیر ہیں یا افغانستان سے سفری دستاویزات کے ساتھ پشاور علاج کے لیے آتے ہیں ان سے بھی پوچھ گچھ کی جاتی ہے۔

خیبر پختونخوا میں ’سرچ اینڈ سٹرائیک‘ آپریشن کے دوران مشتبہ افراد کے علاوہ غیر قانونی طور پر مقیم افغانیوں کو بھی گرفتار کیا جا رہا ہے۔

پشاور کے مختلف علاقوں میں چھاپے مارے جا رہے ہیں جبکہ شہر میں ناکے بھی لگائے گئے ہیں۔

پشاور کے سینیئر سپرنٹنڈنٹ پولیس ڈاکٹر میاں سعید نے بتایا کہ اس آپریشن میں اب تک پشاور سے2,100 سے زائد افغان شہریوں کو گرفتار کرکے انھیں عدالت کے ذریعے واپس افغانستان بھیجا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ مختلف جرائم میں ان افغان شہریوں کا ہاتھ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی غیر ملکیوں کے لیے قانون ہے کہ کسی کو ملک میں اندراج کے بغیر رہنے کی اجازت نہیں ہوتی اور یہ قانون افغانیوں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔

اقوام متحدہ کے مظابق گذشتہ ڈیڑھ ماہ میں ساڑھے پانچ ہزار سے زیادہ ایسے افغان بھی واپس وطن گئے ہیں جن کے پاس یہاں رہنے کے دستاویزات موجود تھے۔

پاکستان نے سرد جنگ اور طالبان دور میں افغانستان سے آنے والے لاکھوں مہاجرین کو پناہ دی تھی۔

افغان پناہ گزینوں کو اب ’اقتصادی مہاجرین‘ مانا جاتا ہے کیونکہ بیشتر ذریعہِ معاش کے بہتر مواقع کی تلاش میں پاکستان آئے ہیں۔

گذشتہ دس سالوں میں تقریباً 40 لاکھ پناہ گزین واپس افغانستان جا چکے ہیں تاہم اب بھی 17 لاکھ کے قریب افغانی قانونی طور پر پاکستان میں مقیم ہیں۔

اسی بارے میں