پشاور میں فرسٹ ایئر کی طالبہ ’بھتہ خوری‘ پرگرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock
Image caption ’لڑکی نے اپنا نام لبنیٰ بتایا ہے اور وہ بھتے کے لیے گولڈن نمبرز کا انتخاب کرکے فون کرتی تھی۔ لڑکی فرسٹ ایئر کی طالبہ ہے اور ہماری سوچ سے بھی زیادہ شاطر ہے‘

خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں پولیس نے ایک ایسی نوجوان لڑکی کو گرفتار کیا ہے جو مبینہ طور پر مرد تاجروں اور مالی طور پر مستحکم افراد سے بھتہ وصول کرتی تھی۔

پشاور شہر کے پولیس افسر فرقان بلال نے بی بی سی کو بتایا کہ لڑکی کی عمر 17 سے 20 سال کے درمیان ہے اور وہ موبائل فون پر آواز تبدیل کرنے والا سافٹ ویئر استعمال کرکے لڑکوں کی آواز میں لوگوں کو دھمکیاں دے کر بھتہ وصول کرتی تھی۔

پولیس کے مطابق ایک تاجر نے پولیس کو شکایت کی کہ کوئی نامعلوم شخص انھیں ٹیلیفون پر دھمکیاں دے کر دس لاکھ روپے کا مطالبہ کر رہا ہے اور کہتا ہے کہ وہ انھیں جان سے مار دے گا اور بچوں کو اغوا کر لے گا۔

پولیس نے دعویٰ کیا کہ اس موبائل نمبر کی انکوائری کی تو معلوم ہوا کہ اس نمبر سے اسی طرح کی دھمکیاں دیگر چند افراد کو بھی موصول ہو چکی تھیں جس پر تحقیقات کو وسیع کیا گیا۔

اے ایس پی فرقان بلال نے بتایا ’لڑکی نے اپنا نام لبنیٰ بتایا ہے اور وہ بھتے کے لیے گولڈن نمبرز کا انتخاب کرکے فون کرتی تھی۔ لڑکی فرسٹ ایئر کی طالبہ ہے اور ہماری سوچ سے بھی زیادہ شاطر ہے۔‘

پویس کے مطابق لڑکی بھتہ وصول کرنے کے لیے علیحدہ علیحدہ سمیں استعمال کرتی تھی۔

تحقیقات سے معلوم ہوا کہ جو نمبر لڑکی استعمال کرتی تھی وہ مردوں کے نام سے جاری تھے لیکن ان نمبروں کو لڑکی استعمال کرتی تھی۔

پولیس کی تفتیس کے دوران معلوم ہوا کہ لبنیٰ پشاور کے مضافاتی علاقے ماشوخیل کی رہنے والی ہے اور اس کی دو بہنیں شادی شدہ ہیں۔

پولیس افسر فرقان بلال نے بتایا کہ جن لوگوں سے اس لڑکی نے بھتے وصول کیے ان کے فون سے کچھ معلومات حاصل ہوئیں تو لڑکی نے اپنا فون تبدیل کرکے بہن کو دے دیا تھا۔

’لڑکی کی بہن نے پھر وہی فون استعمال کرنا شروع کیا جس پر پولیس نے تفتیش کے بعد چھاپے مار کر لڑکی کو گرفتار کر لیا ہے۔‘

پشاور میں شاید یہ پہلا واقعہ ہے جس میں ایک خاتون مردوں سے بھتہ وصول کرتی رہی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس بارے میں مزید تفتیش کی جا رہی ہے۔

پشاور سمیت خیبر پختونخوا کے مخلف علاقوں میں ان دنوں بھتے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور آئے روز لوگوں کے گھروں کے باہر دھماکے کرکے انھیں اپنے ہونے کا احساس دلایا جاتا ہے ۔

اسی بارے میں