خیبر پختونخوا سے افغان پیش اماموں کی ملک بدری کا فیصلہ

تصویر کے کاپی رائٹ bb
Image caption خیبر پختونخوا میں اس وقت 294 افغان پیش امام موجود ہیں جن کے تمام کوائف متلعقہ افسران کو بھیج دیے گئے ہیں

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کی حکومت نے مختلف مساجد میں کام کرنے والے 300 کے قریب افغان پیش اماموں کو ایک ہفتے کے اندر اندر ملک بدر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پشاور میں محکمۂ داخلہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے تناظر میں کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق صوبے کے تمام کمشنروں اور ڈی آئی جیز کو سات دنوں کے اندر اندر افغان پیش اماموں کے خلاف کارروائی کر کے انھیں ملک بدر کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

خیبر پختونخوا میں اس وقت 294 افغان پیش امام موجود ہیں جن کے تمام کوائف متلعقہ افسران کو بھیج دیے گئے ہیں۔

یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ صوبائی حکومت نے ضروری انتظامات اور تربیت یافتہ عملہ نہ ہونے کے باعث نجی سکیورٹی ایجنسیوں کے خلاف بھی کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

صوبائی محکمۂ داخلہ کے ذرائع کے مطابق اس سلسلے میں 40 کے قریب سکیورٹی ایجنسیوں کے لائسنس منسوخ کرنے کےلیے ان کو نوٹس جاری کردیے گئے ہیں۔

ان نجی ایجنسیوں پر الزام عائد جاتا ہے کہ ان کے پاس تربیت یافتہ عملہ موجود نہیں جبکہ ان کے سٹاف کو فراہم کیا گیا اسلحہ بھی ناقص ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ خیبر پختونخوا میں 80 سے زائد سکیورٹی کمپنیاں کام کر رہی ہیں۔

خیال رہے کہ پشاور کے آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد سے خیبر پختونخوا میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیوں کا آغاز کیا گیا ہے۔

ان کارروائیوں میں اب تک ہزاروں افغانیوں کو گرفتار کرکے ان کو ملک بدر کیا گیا ہے۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے پشاور میں رہائش پذیر افغان شہریوں کے کئی ہاسٹلز پر چھاپے مارکر انھیں سیل کردیا گیا ہے۔

چند ہفتے قبل ان کارروائیوں میں ایسے کئی افغان باشندوں کو بھی حراست میں لیا گیا جن کے پاس یہاں رہنے کی قانونی دستاویزات تھیں۔

اس سے قبل عوامی نیشنل پارٹی کی حکومت میں بھی افغان پیش اماموں کے خلاف کاروائی کی گئی تھی اور پشاور میں کام کرنے والے بیشتر افغان علماکو ملک بدر کیا گیا تھا۔

پشاور میں مقیم افغان پناہ گزینوں کے نمائندوں نے چند دن پہلے وزیرِ اعلی خیبر پختونخوا پرویز خٹک سے ملاقات کی تھی جس میں ان گرفتاریوں پر ناراضگی کا اظہار کیا گیا تھا۔

اس کے علاوہ افغانستان کے طالبان کی جانب سے بھی پاکستان میں قانونی طور پر رہائش پزیر افغان شہریوں کی گرفتاری پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا گیا تھا۔

یہ پہلی مرتبہ ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے پاکستان میں مقیم افغان پناہ گزینوں کے لیے کوئی ایسا بیان جاری کیا گیا ہے۔

تاہم ابھی تک افغان حکومت کی جانب سے اس حوالے سے باضابط طور پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ تین دہائیوں کے دوران پاکستان میں پہلی مرتبہ پولیس نے وسیع پیمانے پر غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کے خلاف کارووائیاں شروع کی ہیں۔

گذشتہ دس سالوں میں تقریباً 40 لاکھ پناہ گزین واپس افغانستان جا چکے ہیں تاہم اب بھی 17 لاکھ کے قریب افغانی قانونی طور پر بدستور پاکستان میں مقیم ہیں۔

اسی بارے میں