افغان ’مونا لیزا‘ کا پاکستانی کارڈ منسوخ

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption شربت بی بی کو کارڈ ان کے شوہر رحمت گل کے شناختی کارڈ نمبر پر جاری کیاگیا

پاکستان میں شناختی کارڈ بنانے کے ادارے نادرا نے افغان خاتون شربت بی بی اور اس کے مبینہ دو بیٹوں کو جاری شناختی کارڈ منسوخ کر دیے ہیں اور اس بارے میں انکوائری مکمل کر لی گئی ہے ۔

نیشنل جیو گرافک میگزین کے سرورق پر جس افغان خاتون کی تصویر1984 میں شائع ہوئی تھی اس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ شربت بی بی تھی جسے اس وقت شربت گلہ کے نام سے پہچانا گیا تھا۔

خیال رہے کہ نیشنل جیو گرافک میگزین میں شربت بی بی کی تصویر چھپنے کے بعد دنیا بھر میں ان کی خوربصورت آنکھوں کو سراہا گیا تھا اور کچھ لوگوں نے انھیں افغان مونا لیزا کا خطاب بھی دی تھا۔

سرکاری ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ نیشنل ڈیٹا بیس رجسٹریشن اتھارٹی یعنی نادار حیات آباد کے دفتر نے گزشتہ سال تین شناختی کارڈ جاری کیے تھے۔ ان میں ایک شناختی کارڈ شربت بی بی عمر چھیالیس سال اور دو شناختی کارڈ مبینہ طور پر شربت بی بی کے دو بیٹوں کے تھے اور یہ تینوں کارڈ ایک ہی روز میں جاری کیےگئے تھے۔

ذرائع نے بتایا کہ یہ معلوم نہیں ہے کہ ان کی کوئی بڑی سفارش تھی یا کوئی اور وجہ لیکن یہ لوگ ایک ہی روز میں کارڈ جاری کرانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔اس بارے میں نادرا کے دفاتر میں متعلقہ حکام سے رابطے کی بارہا کوشش کی گئی لیکن ان کے ٹیلیفون نمبر سے کوئی جواب موصول نہیں ہو رہا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption نادرا حکام کو تحقیقات کرنے پر پتا چلا کہ افغانیوں کو یہ شناختی کارڈ جاری کیےگئے ہیں

شربت بی بی کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ 1984 میں کابل سے پشاور کے ایک افغان کیمپ میں ہجرت کرکے پہنچی تھیں۔ ابتداء میں ایسی اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ ان کی تین بیٹیاں ہیں لیکن اب انھوں نے اپنے ساتھ دو بیٹوں کے شناختی کارڈ حاصل کیے ہیں۔

ذرائع نے بتایا کے شربت بی بی کو کارڈ ان کے شوہر رحمت گل کے شناختی کارڈ نمبر پر جاری کیاگیا اور ایسی اطلاعات ہیں کہ ان کے شوہر کا شناختی کارڈ بھی جعلی تھا اور یہاں تک کہ ان کے فارم کی تصدیق کرنے والے سکول ماسٹر کےدستخط اور ان کی مہر بھی جعلی تھی۔

یہ شناختی کارڈ جاری ہونے کے بعد نادرا کے حکام نے اس کی تحقیقات کیں جس پر معلوم ہوا کہ افغانیوں کو یہ شناختی کارڈ جاری کیےگئے ہیں جس پر انکوائری شروع کی گئی۔

ایسی اطلاعات ہیں کہ اس سلسلے میں چند ایک اہلکاروں کو نشاندہی کی گئی ہے لیکن تاحال یہ ظاہر نہیں کیا گیا کہ اس میں کون سے اہلکار ملوث تھے۔

اسی بارے میں