’القاعدہ کے انکار پر لشکرِجھنگوی کا طالبان سےگٹھ جوڑ‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP Getty
Image caption لشکرِ جھنگوی سمیت شدت پسند تنظیموں کے خلاف کارروائی کے لیے حالیہ دنوں میں مظاہرے بھی ہوئے ہیں

حکومت پاکستان نے کہا ہے کہ ملک میں فرقہ وارانہ تشدد کے حالیہ واقعات میں کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی ملوث ہے جس کا مقصد تنظیم کے ارکان کی پھانسیاں رکوانے کے لیے حکومت پر دباؤ ڈالنا ہے۔

وفاقی وزارتِ داخلہ کی طرف سے صوبوں کو لکھے گئے ایک خط میں کہا گیا ہے کہ اس کالعدم تنظیم نے کارروائیوں کے لیے القاعدہ سے بھی مدد مانگی تھی اور وہاں سے انکار پر اس نے تحریکِ طالبان پاکستان کے ساتھ گٹھ جوڑ کر لیا ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ اطلاعات کے مطابق لشکرِ جھنگوی نے جیلوں میں قید اپنے شدت پسندوں کی رہائی کے لیے عام لوگوں کو یرغمال بھی بنا سکتی ہے۔

وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ جنوبی پنجاب کے علاقے کبیر والا کے ایک شخص عبدالرحمان کو پنجاب میں لشکر جھنگوی کی کارروائیوں کی نگرانی کی ذمہ داری سونپی گئی ہے اور اس نے لاہور سمیت مختلف علاقوں بڑے حملوں کی منصوبہ بندی کی ہوئی ہے۔

خط میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے اس تنظیم کے کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے بعد اس کے ارکان نے القاعدہ سے مدد مانگی تھی تاہم القاعدہ کے ذمہ داران نے عراق اور شام میں مصروفیت کی وجہ سے لشکرِ جھنگوی کی مدد کرنے سے معذوری ظاہر کر دی تھی۔

وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ القاعدہ کے انکار کے بعد تنظیم نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے امیر ملا فضل اللہ سے رابطہ کیا جنھوں نے نہ صرف لشکر جھنگوی کو مالی معاونت فراہم کی بلکہ اُنھیں مزید معاونت فراہم کرنے کا بھی وعدہ کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption رواں برس شیعہ مسلک کی مساجد پر کم از کم تین بڑے حملے ہو چکے ہیں

سرکاری دستاویز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ملک میں اہل تشیع کو نشانہ بنائے جانے کا مقصد حکومت پر دباؤ ڈالنا ہے کہ وہ مذکورہ تنظیم سے تعلق رکھنے والے افراد کی پھانسیوں پر عمل درآمد روک دے۔

حکومت نے خفیہ اداروں کی رپورٹ کی روشنی میں تمام صوبوں کے اعلیٰ حکام کو سرکاری عمارتوں، امام بارگاہوں اور عبادت گاہوں کے اردگرد حفاظتی اقدامات کو بہتر بنانے کی ہدایت کی ہے۔

حکومت کے مطابق ملک میں حالیہ شدت پسندی کے واقعات کے پیچھے لشکر جھنگوی اور ملا فضل اللہ کا گٹھ جوڑ ہے۔

خیال رہے کہ پشاور میں شیعہ مسجد پر حملے کی ذمہ داری بھی تحریکِ طالبان کی جانب سے ہی قبول کی گئی تھی اور تنظیم نے حملہ آوروں کی ویڈیو بھی جاری کی تھی۔

پشاور میں ہی گذشتہ برس دسمبر میں آرمی پبلک سکول پر ہونے والے طالبان کے حملوں کے بعد ملک میں سزائے موت پر عمل درآمد کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔

اس سلسلے میں اب تک 22 مجرموں کو پھانسی دی جا چکی ہے جن میں لشکرِ جھنگوی سے تعلق رکھنے والے متعدد شدت پسند بھی شامل ہیں۔

رواں ماہ کی تین تاریخ کو بھی کراچی میں لشکرِ جھنگوی کے دو ارکان کی پھانسی کے بعد دو نجی سکولوں کے قریب کریکر دھماکوں کے بعد پولیس کو جائے وقوع سے ایسے پمفلٹ بھی ملے تھے جن میں متنبہ کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ ’ہمارے لوگوں کو پھانسی دینے اور جعلی مقابلوں میں مارنے کا سلسلہ بند کرو ورنہ یہ واقعہ بھرے سکول میں بھی پیش آ سکتا ہے۔‘

اسی بارے میں