’بجلی کمپنیوں کی نجکاری اگلے سال مکمل ہوگی‘

Image caption وزیرِ نجکاری کے بقول ہم جلد بازی میں یہ کام نہیں کرنا چاہتے لیکن اس بات کو بھی یقینی بنائیں گے کہ پاور سیکٹر کی نجکاری مزید تاخیر کا شکار نہ ہو

پاکستان میں نجکاری کے امور کے وزیر محمد زبیر نے کہا ہے کہ سرکاری شعبے میں استعمال ہونے والی بجلی پیدا اور تقسیم کرنے والی کمپنیوں کی نجکاری کا عمل اگلے سال جون میں مکمل کر لیا جائےگا۔

اس سے پہلے حکومت نے ان کمپنیوں کی نجکاری رواں سال ہی میں مکمل کرنے کا اعلان کیا تھا۔

محمد زبیر نے لندن میں بی بی سی کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں کہا کہ حکومت کی نجکاری پالیسی میں اولین ترجیح توانائی کے شعبے کو دی جا رہی ہے۔

’ترجیحات میں بجلی کے شعبے کو پہلے نمبر پر رکھنے کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ملک کو درپیش سب سے بڑا معاشی چیلنج بجلی کی کمی ہے۔ اسی مسئلے کو حل کرنے اور بجلی پیدا کرنے والے اداروں کی کارکردگی بڑھانے کے لیے حکومت نے انہیں نجی شعبے کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومت توانائی کے شعبے کو ہر صورت ٹھیک کرنا چاہتی ہے۔‘

نجکاری کے وزیر نے کہا کہ بجلی کی پیداور اور تقسیم کے نظام کو نجی شعبے کے حوالے کیے بغیر اس کی کارکردگی بڑھانا مشکل ہے۔

’ہم پاور سیکٹر کو ٹھیک کرنا چاہتے ہیں۔ بجلی کی چوری، گردشی قرضے، بجلی کے بلوں کی عدم وصولی اور بعض دیگر مسائل کو ختم کیے بغیر بجلی کی پیداوار بڑھائی نہیں جا سکتی۔‘

وزیر نجکاری نے کہا کہ بجلی کی تمام تقسیم کار کمپنیوں کو باری باری نجی شعبے کے حوالے کیا جائےگا۔

’ہمارے منصوبے کے تحت سب سے پہلے فیصل آباد کی بجلی تقسیم کرنے والی کمپنی کی نجکاری کی جائے گی جس کے بعد ہر ماہ ایک کمپنی کو نجی شعبے کے حوالے کیا جائے گا۔‘

وزیر مملکت برائے نجکاری کے مطابق سرکاری شعبے میں چلنے والی نو تقسیم کار کمپنیاں اور بجلی پیدا کرنے والے چار اداروں کو اگلے سال جون تک نجی شعبے کے حوالے کر دیا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ اس عمل کے دوران ملازمین کے حقوق کے تحفظ کے لیے ان کے ساتھ بات چیت کے ذریعے طریقۂ کار طے کیا جا رہا ہے۔

’ہم جلد بازی میں یہ کام نہیں کرنا چاہتے لیکن اس بات کو بھی یقینی بنائیں گے کہ پاور سیکٹر کی نجکاری مزید تاخیر کا شکار نہ ہو اور جون 2016 تک یہ مرحلہ مکمل ہو جائے۔‘

اسی بارے میں