پشاور کے علاقے حیات آباد سے سر بریدہ لاش برآمد

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption پولیس کا کہنا ہے کہ اس بارے میں تفتیش ہو رہی ہے فنگر پرنٹس حاصل کرکے اس لاش کی شناخت کی جا رہی ہے

خیبر پختونخوا کے داردالحکومت پشاور کے بڑے رہائشی علاقے حیات آباد کے قریب ایک نامعلوم شخص کی لاش ملی ہے جس کا سر تن سے جدا تھا۔

پشتخرہ تھانے کے سب انسپکٹر قاضی عارف نے بتایا کہ نامعلوم شخص کو قتل کرنے کے بعد لاش بوری میں ڈال کر حیات آباد کے قریب برساتی نالے میں پھینکی گئی تھی لیکن لاش بہہ کر آگے نہیں گئی۔

پولیس کے مطابق موقع واردات سے دھڑ ملا ہے اور سر یہاں سے چند کلومیٹر دور پلوسی کے علاقے سے ملا ہے۔ جس شخص کو قتل کیا گیا ہے اس کے شناخت نہیں ہو سکی تاہم پولیس کے مطابق عمر 30 سے 35 سال اور قد پانچ فٹ سات انچ تک ہے۔

لاش پر بظاہر تشدد کے کوئی نشان نہیں تھے تاہم پولیس اہلکاروں کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم کے بعد تفصیلات معلوم ہو سکیں گی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اس بارے میں تفتیش ہو رہی ہے فنگر پرنٹس حاصل کرکے اس لاش کی شناخت کی جا رہی ہے۔

چند روز پہلے پشاور کے مضافاتی علاقے متنی سے بھی تین افراد کی لاشیں ملی تھیں۔ یہ لاشیں پشاور میں نیم قبائلی علاقے کے قریب سے ملی تھیں۔ گذشتہ روز حکام نے بتایا تھا کہ تینوں افراد کی شناخت ہو گئی ہے اور یہ تینوں افراد شدت پسند تھے۔

دو ہفتے پہلے پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی سے بھی چھ افراد کی لاشیں ملی تھیں۔

پشاور میں یہ کوئی پہلی مرتبہ لاشیں نہیں ملیں بلکہ اس سے پہلے بھی اس طرح کے واقعات پیش آ چکے ہیں۔ پشاور ہائی کورٹ نے سال 2013 میں اچانک بڑی تعداد میں لاشیں ملنے کے واقعات پر از خود نو ٹس لیا تھا۔ سال 2013 کے چند ماہ میں دو درجن سے زیادہ بوری بند لاشیں ملی تھیں۔

اسی بارے میں