براڈکاسٹنگ اینالاگ سے ڈیجیٹل کب؟

Image caption پاکستان جون 2015 تک ریڈیو اور ٹی وی نشریات کو اینالاگ سے ڈیجیٹل میں تبدیل کرنے کا پابند ہے

پاکستان جنوبی ایشیا میں افغانستان کے بعد وہ دوسرا ملک ہے جو 2006 میں جینیوا میں طے پانے والے ’انٹرنیشنل ٹیلی کمیونیکیشن یونین معاہدے‘ کے تحت ریڈیو اور ٹی وی کی براڈکاسٹ اینالاگ سے ڈیجٹل میں تبدیل کرنے سے اب تک قاصر ہے۔

حکومت پاکستان نے اب تک اس کے لیے کسی بھی وقت کا تعین نہیں کیا ہے کہ یہ کب تک ممکن ہو پائے گا۔

یہ بات اسلام آباد میں ’نشریاتی صحافت: میڈیا اکنامکس کے ہاتھوں یرغمال‘ نامی رپورٹ میں کہی گئی ہے۔ یہ رپورٹ سینٹر فار پیس اینڈ ڈیولپمنٹ انیشیٹو نامی تنظیم نے جاری کی ہے۔

رپورٹ کے ایک مصنف اسد بیگ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس سال جون تک تمام نشریات اینالاگ سے ڈیجٹل میں منتقل کیا جانے کا پابند ہے۔ ’اس جانب پیش رفت نہ ہونے کے برابر ہے۔‘

آئی ٹی یونین کے مطابق ہمسایہ ملک بھارت اس برس مکمل طور پر ڈیجیٹل ہو جائے گا جبکہ بنگلہ دیش آئندہ برس اس صف میں شامل ہو جائے گا۔ نیپال اور سری لنکا 2017 میں اور بھوٹان 2020 میں یہ حیثیت حاصل کر لے گا۔

اسد بیگ کہتے ہیں کہ پاکستان میں میڈیا دیکھنے اور سننے والوں کی بجائے پاور ہاؤسز کی خدمت کرتا ہے جہاں سے انہیں پیسے ملنے کی امید ہوتی ہے۔ اور اس کی وجہ درست ہے کیونکہ انہیں ان سے پیسے ملتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ نشریات ڈیجیٹل جادو کی چھڑی گھمانے سے نہیں ہوں گی کیونکہ یہاں میڈیا مالکان اور کیبل آپریٹرز کی اپنی اپنی لابیز ہیں۔

’جب ابتدا میں پیمرا آیا تھا اگر اس وقت اس کا خیال رکھا جاتا تو بہتر تھا لیکن ایسا نہیں ہوا۔‘

رپورٹ کے مطابق اس بابت پیش رفت اس وقت تک نہیں ہوگی جب تک ملک میں سبسکرپشن شروع نہیں کی جائے گی، اشتہارات کے علاوہ اس سے درست اعدادوشمار میسر ہوسکیں گے کہ کون سا چینل کتنا دیکھا جا رہا ہے لہٰذا کس چینل کو کتنے پیسے جانے چاہیں۔‘

اسد بیگ کا موقف ہے کہ چینلوں کی موجودہ ریٹنگ کے نظام کو یکسر نظر انداز کیا جانا چاہیے کیونکہ وہ درست تصویر نہیں دکھا رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ THINKSTOCK
Image caption اینالاگ سسٹم میں کم چینلز دکھانے کی گنجائش ہوتی ہے

’ان ریٹنگز کی بنیاد پر آپ کو میڈیا کو چانچنا ہی نہیں چاہیے۔ دنیا میں مقامی زبانوں کے چینلوں کے فروغ کی بات ہو رہی ہے لیکن پاکستان میں سندھی یا پشتو کا چینل کسی اردو کے چینل کا مقابلہ ہی نہیں کرسکتا ہے۔ ان کی ریٹنگ والے علاقوں میں ریٹنگ جاننے کا نظام ہی نصب نہیں۔‘

اینالاگ نظام کی ایک خامی بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس نظام میں 87 چینلز سے زیادہ دکھانے کی گنجائش ہی نہیں ہے۔ لیکن پیمرا کے قانون کے مطابق وہ جس چینل کو بھی لائسینس دے گا کیبل آپریٹر پر اسے دکھانا لازم ہوگا چاہے وہ ڈاؤن لنک ہو یا مقامی لائسینس ہو۔ ’ایسے چینلوں کی تعداد 79 ہے جبکہ ڈاون لنک جیسے کہ ایچ بی او ہیں علیحدہ ہیں۔ کیبل آپریٹر کے لیے یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ سب دکھائے۔‘

رپوٹ میں کہا گیا ہے کہ الیکٹرانک اعداوشمار جمع کرنے کے لیے صرف ایک تنظیم ملک میں کام کر رہی ہے جوکہ صرف ایک ذریعہ ہے۔ اسے وسعت دینے کی ضرورت ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی نوٹ کیا گیا ہے کہ سول سوسائٹی کلیدی ادارے پیمرا میں اصلاحات کے معاملے پر خاموش ہے۔ سفارش کی گئی ہے کہ میڈیا کی ترقی کے لیے سرگرم تنظیمیں پیمرا کی اصلاح کے لیے ایک مہم چلائیں۔

اسی بارے میں