گلگت جیل سے نانگا پربت حملے کا ایک ملزم فرار، دوسرا ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گلگت کی ڈسٹرکٹ جیل میں 102 میں سے 25 قیدی دہشت گردی کے اہم مقدمات میں ملوث ہیں۔

نانگا پربت کے بیس کیمپ پر حملے میں دس غیرملکیوں سمیت 11 افراد کی ہلاکت کے دو ملزمان سمیت چار قیدیوں کی گلگت کی جیل سے فرار کی کوشش کے دوران ایک قیدی ہلاک اور ایک زخمی ہوا ہے جبکہ دو فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

گلگت بلتستان کے سیکریٹری داخلہ سبطین احمد نے بی بی سی کی حمیرا کنول کو بتایا کہ یہ واقعہ جمعرات کی شب دو بج کر 45 منٹ پر پیش آیا جب ڈسٹرکٹ جیل میں موجود چار قیدیوں نے فرار کی کوشش کی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے سکیورٹی عملے نے فائر کھول دیا جس کے نتیجے میں فرار ہونے والا ایک قیدی ہلاک، ایک زخمی جبکہ دو فرار ہونے میں کامیاب ہوئے جن کی تلاش کے لیے آپریشن جاری ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ چاروں قیدیوں کے مقدمات زیرِسماعت تھے ان میں سے کوئی بھی سزا یافتہ مجرم نہیں تھا۔

سیکریٹری داخلہ کے مطابق مارا جانے والا قیدی نانگا پربت میں غیر ملکیوں پر حملے میں ملوث تھا جبکہ فرار ہونے والوں میں سے بھی ایک قیدی اسی معاملے کا ملزم ہے۔

سبطین احمد نے مزید بتایا کہ گلگت بلتستان کی جیل میں اس وقت 102 قیدی موجود ہیں جن میں سے لگ بھگ 25 ایسے قیدی ہیں جو دہشت گردی کے اہم مقدمات میں ملوث ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈسٹرکٹ جیل کی حفاظت کے لیے جیل انتظامیہ کے علاوہ سول آرمڈ فورسز اور پولیس کی اچھی خاصی تعداد تعینات ہوتی ہے۔

اس سے قبل گلگت بلتستان کے چیف سیکریٹری راجہ سکندر سلطان نے بی بی سی کے طاہر عمران سے بات کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ’یہ جیل پر حملہ نہیں تھا بلکہ چار قیدیوں کی جانب سے فرار کی کوشش تھی جن کے بارے میں جیل میں موجود افراد کا خیال ہے کہ ان کے پاس اسلحہ تھا یا انہوں نے ظاہر کیا کہ اُن کے پاس ہتھیار ہیں۔‘

راجہ سکندر سلطان کے مطابق نانگا پربت حملے کا جو ملزم سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے ہلاک ہوا اس کا نام حضرت بلال ہے جبکہ مفرور کا نام حبیب الرحمان ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جیل کے اندر سکیورٹی کا پہلا حصار فرنٹیئر کانسٹیبلری اور گلگت بلتستان پولیس کا ہے جبکہ بیرونی حصار گلگت سکاؤٹس کا ہے۔

یاد رہے کہ 23 جون 2013 کو ضلع دیامر کے صدر مقام چلاس کے قریب نانگا پربت کے بیس کیمپ میں موجود دس غیر ملکی اور ایک پاکستانی سیاح کو گلگت سکاؤٹس کی وردیوں میں ملبوس تقریباً بارہ مسلح حملہ آوروں نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا تھا۔

ہلاک ہونے والوں میں یوکرین، چین، امریکہ اور روس کے شہری شامل تھے اور تحریکِ طالبان پاکستان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی تھی۔

اسی بارے میں