لانگ مارچ کے ایک برس بعد بھی کچھ نہیں بدلا

تصویر کے کاپی رائٹ VBMP
Image caption لاپتہ افراد کے لواحقین نے تقریبا 107 روز کا سفر طے کرکے پرامن اور طویل مارچ کی ایک نئی مثال قائم کی

کراچی پریس کلب کے باہر فٹ پاتھ پر قائم کیمپ میں تصاویر کے گھیرے میں موجود عبدالقدیر بلوچ سارا دن تسبیح پڑھتے گزارتے ہیں، پہلے وہ اپنے بیٹے عبدالجلیل کی واپسی کے دن گنتے تھے اب وہ تمام لاپتہ بلوچ نوجوانوں کی واپسی کے خواہش مند ہیں۔

جولائی 2009 کو بلوچستان سے لاپتہ نوجوانوں کے لواحقین نے ’وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز‘ نامی تنظیم کی بنیاد رکھی۔ جس کے بعد بلوچستان کے علاوہ کراچی اور اسلام آباد میں بھی یہ کیمپ لگایا گیا۔

خفیہ اداروں نے حراساں کیا، ڈرایا دھمکایا: ماما قدیر

تنظیم کے موجودہ چیئرمین قدیر بلوچ بتاتے ہیں کہ 2009 میں لوگ ضرور لاپتہ ہوتے تھے تاہم مسخ شدہ لاشیں اتنی تعداد میں نہیں ملتی تھیں ان دنوں لاپتہ افراد کے لواحقین نے یہ سوچا کہ کئی ایسی قوم پرست جماعتیں ہیں جو ان کی بنیاد پر سیاست اور سودی بازی کرتی ہیں حالانکہ ان کا کوئی بھی کارکن لاپتہ اور ہلاک نہیں ہوا اس لیے لواحقین نے فیصلہ کیا کہ کیوں نہ اپنی تنظیم کی بنیاد رکھی جائے۔

اس طرح وائس فار مسنگ بلوچ پرسنز کی بنیاد رکھی گئی اور بلوچستان کے تمام اضلاع میں ایک ایک کوارڈینیٹر تعینات کیا گیا اور انہیں ہدایت کی گئی کہ کوئی بھی لاپتہ ہو یا تشدد شدہ لاش ملے اس کی تفصیلات انہیں فراہم کی جائیں، اس طرح مفصل فہرست سامنے آگئی اور دنیا کو معلوم ہوا کہ بلوچستان میں کسی حد تک انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری ہیں۔

بلوچستان ہو یا کراچی جہاں سے بھی بلوچ نوجوان کی لاش برآمد ہوتی ہے تو صحافیوں کا پہلا ٹیلیفون عبدالقدیر بلوچ کے پاس جاتا ہے جو کبھی کوئٹہ پریس کلب تو کبھی کراچی اور اسلام آباد میں اپنے کیمپ قائم میں موجود ہوتے ہیں وہ اپنی پاس موجود فہرست دیکھ کر تصدیق یا تردید کرتے ہیں کہ نوجوان لاپتہ تھا یا نہیں اور وہ کہاں سے کب اٹھایا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption عبدالقدیر بلوچ کے لاپتہ بیٹے عبدالریکی کی لاش 2011 میں برآمد ہوئی تھی

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز نے اس وقت کٹھن اور تکلیف دہ قدم اٹھایا جب کوئٹہ سے اسلام آباد تک پیدل مارچ کیا گیا اور وہ دنیا بھر کی انسانی حقوق کی تنظیموں اور میڈیا کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ اس لانگ مارچ کو 28 فروری کو ایک سال مکمل ہو جائے گا۔

اس پیدل مارچ کا آغاز کوئٹہ سے ہوا جو بعد میں کراچی پہنچا چند روز کے قیام کے بعد دوبارہ اسلام آباد روانہ ہوا۔ لاپتہ افراد کے لواحقین نے تقریباً 107 روز کا سفر طے کرکے پرامن اور طویل مارچ کی ایک نئی مثال قائم کی۔

لاپتہ ذاکر مجید کی ہمشیرہ فرزانہ مجید اس لانگ مارچ کے بارے میں اپنی یادداشتیں تحریر کر رہی ہیں، ان کا کہنا ہے کہ لانگ مارچ سے ان کا پیغام گھر گھر پہنچا وہ اس طویل سفر میں جنگلوں، بیابانوں اور پہاڑوں سے بھی گذرے وہاں کے رہنے والوں کو بھی یہ معلوم ہوا کہ کس طرح ہمارے نوجوانوں کو اٹھاکر لے گئے اب ہر کوئی اس مسئلے کا حل چاہتا ہے اور ہمارا موقف سمجھتا ہے۔

وائس فار مسنگ بلوچ پرسنز اور بلوچ انسانی حقوق کی تنظیموں نے گھروں تک محدود کئی خواتین کو پلیٹ فارم فراہم کیا جن کے نوجوان لاپتہ تھے۔

فرزانہ مجید کے مطابق جب کسی کے بھائی کو اٹھاکر لے جاتے ہیں اور اس کا بھائی احتجاج پر آ کر بیٹھتا ہے تو اگلے روز اس کو بھی اٹھا لیا جاتا ہے ایسی کئی مثالیں موجود ہیں اسی وجہ سے بہنوں نے فیصلہ کیا کہ دوسرے بھائیوں کو بچانے اور جو تنظیم میں مرد حضرات ہیں ان کے شانہ بشانہ کام کرنے کے لیے انہیں باہر نکلنا چاہیے۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ لاپتہ افراد کی تعداد میں اضافہ اور عبدالقدیر بلوچ کے گرد تصاویر کا گھیرا تنگ ہو رہا ہے۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کی حالیہ رپورٹ کے مطابق 2013 میں سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود حکومت جبری گمشدہ افراد کو بازیاب کرانے میں ناکام رہی ہے، حکومت آئین پاکستان اور بین الاقوامی وعدوں کے باوجود انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی روک تھام نہیں کر سکی ہے۔

عبدالقدیر بلوچ کے لاپتہ بیٹے عبدالریکی کی لاش 2011 میں برآمد ہوئی تھی، لیکن انھوں نے اس جدوجہد سے دستبردار ہونے کے بجائے اپنی زندگی اس کے لیے وقف کر دی اب وہ اقوام متحدہ کے ہیڈکورٹر جنیوا تک پیدل مارچ کے خواہشمند ہیں۔ جس کے لیے ان کی خط و کتابت جاری ہے۔

انسان حقوق کی ملکی سطح کی تنظیمیں اور سول سوسائٹی کے لوگ کبھی کبھی بھولے بھٹکے قدیر بلوچ کے کیمپ پر آ جاتے ہیں، یہ ہی حالت مقامی میڈیا کی بھی ہے۔

اسی بارے میں