گلگت جیل سے فرار: جیل اہلکاروں سمیت 13 افراد حراست میں

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جیل کے اندر سکیورٹی کا پہلا حصار فرنٹیئر کانسٹیبلری اور گلگت بلتستان پولیس کا ہے جبکہ بیرونی حصار گلگت سکاؤٹس کا ہے( فائل فوٹو)

پاکستان کے شمالی علاقے گلگت بلتستان میں پولیس حکام کے مطابق گلگت جیل سے دو قیدیوں کے فرار ہونے کے الزام میں جیل اہلکاروں سمیت 13 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

گلگت بلتستان پولیس کے سربراہ کیپٹن ریٹائرڈ ظفر اقبال نے بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک سے بات کرتے ہوئے کہا کہ گرفتار کیے جانے والوں میں 10 جیل اہلکار اور تین دوسرے مشتبہ افراد شامل ہیں۔

جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب کو نانگا پربت کے بیس کیمپ پر حملے میں دس غیرملکیوں سمیت 11 افراد کی ہلاکت کے دو ملزمان سمیت چار قیدیوں کی گلگت کی جیل سے فرار کی کوشش کے دوران ایک قیدی ہلاک اور ایک زخمی ہوا ہے جبکہ دو فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے۔

کیپٹن ریٹائرڈ ظفر اقبال نے بتایا کہ ابتدائی تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ ان ملزمان کو لاک اپ میں رکھا ہی نہیں گیا تھا اور جس کمرے میں انہیں رکھا گیا تھا وہاں کا تالا بھی ٹھیک سے بند نہیں کیا گیا تھا جس کی وجہ سے وہ فرار ہونے میں کامیاب ہوئے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اس کمرے سے فرار ہونے کے بعد قریب ہی دوسرے کمرے سے انہوں نے اسلحہ لیا اور جیل کی 14 فٹ بلند دیوار پھلانگ کر فرار ہوگئے۔

ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی بنا دی گئی ہے جو اس سارے معاملے کی چھان بین کر رہی ہے اور معلوم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ اس میں کون کون سے ہاتھ ملوث ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’گلگت کی ڈسٹرکٹ جیل میں 102 میں سے 25 قیدی دہشت گردی کے اہم مقدمات میں ملوث ہیں‘

ان ملزمان کے فرار ہونے کی پہلے سے اطلاع ہونے کے بارے میں پوچھنے پر پولیس سربراہ کا کہنا تھا کہ ایسی کوئی اطلاع تو نہیں تھی لیکن جتنے سنگین مقدمات میں یہ ملوث تھے یہ طے تھا کہ یہ لوگ فرار ہونے کی کوشش کریں گے۔

اس سے پہلے جمعے کوگلگت بلتستان کے سیکریٹری داخلہ سبطین احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقعہ جمعرات کی شب دو بج کر 45 منٹ پر پیش آیا جب ڈسٹرکٹ جیل میں موجود چار قیدیوں نے فرار کی کوشش کی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے سکیورٹی عملے نے فائر کھول دیا جس کے نتیجے میں فرار ہونے والا ایک قیدی ہلاک، ایک زخمی جبکہ دو فرار ہونے میں کامیاب ہوئے جن کی تلاش کے لیے آپریشن جاری ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ چاروں قیدیوں کے مقدمات زیرِسماعت تھے ان میں سے کوئی بھی سزا یافتہ مجرم نہیں تھا۔

سیکریٹری داخلہ کے مطابق مارا جانے والا قیدی نانگا پربت میں غیر ملکیوں پر حملے میں ملوث تھا جبکہ فرار ہونے والوں میں سے بھی ایک قیدی اسی معاملے کا ملزم ہے۔

سبطین احمد نے مزید بتایا کہ گلگت بلتستان کی جیل میں اس وقت 102 قیدی موجود ہیں جن میں سے لگ بھگ 25 ایسے قیدی ہیں جو دہشت گردی کے اہم مقدمات میں ملوث ہیں۔

گلگت بلتستان کے چیف سیکریٹری راجہ سکندر سلطان نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ نانگا پربت حملے کا جو ملزم سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے ہلاک ہوا اس کا نام حضرت بلال ہے جبکہ مفرور کا نام حبیب الرحمان ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جیل کے اندر سکیورٹی کا پہلا حصار فرنٹیئر کانسٹیبلری اور گلگت بلتستان پولیس کا ہے جبکہ بیرونی حصار گلگت سکاؤٹس کا ہے۔

یاد رہے کہ 23 جون 2013 کو ضلع دیامر کے صدر مقام چلاس کے قریب نانگا پربت کے بیس کیمپ میں موجود دس غیر ملکی اور ایک پاکستانی سیاح کو گلگت سکاؤٹس کی وردیوں میں ملبوس تقریباً بارہ مسلح حملہ آوروں نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا تھا۔

ہلاک ہونے والوں میں یوکرین، چین، امریکہ اور روس کے شہری شامل تھے اور تحریکِ طالبان پاکستان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی تھی۔

اسی بارے میں