’شکارپور حملے کے دو سہولت کار گرفتار‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption مسجد پر حملے میں 60 سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے تھے

صوبہ سندھ کی شکارپور پولیس نے امام بارگاہ میں خودکش بم حملے کے دو سہولت کاروں کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کا تعلق ممنوعہ شدت پسند گروہ لشکرِ جھنگوی اور جیشِ اسلام نامی گروہ سے ہے۔

ایس ایس پی شکارپور ثاقب اسماعیل میمن نے جمعہ کی شب ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ شکارپور کے قریب واقع ایک گاؤں سے یہ گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں، گرفتار ملزمان کی شناخت غلام رسول اور خلیل بروہی کے نام سے کی گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ملزمان نے امام بارگاہ کے قریب ریڑھی لگاکر پہلے ریکی کی تھی، جس کے بعد اٹھارہ سے بیس سال کی عمر کے الیاس نامی نوجوان نے خودکش حملہ کیا، جس کا تعلق کوئٹہ سے تھا اور اس کو محمد رحیم بروہی نامی ملزم اپنے ساتھ کوئٹہ سے لایا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان نے شکارپور میں مجلس وحدت مسلمین کے رہنما شقت عباس کی ٹارگٹ کلنگ کا اعتراف کیا ہے اور اس کے علاوہ دیگر شخصیات کے نام بھی بتائے ہیں جن پر وہ حملہ کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔

ایس ایس پی ثاقب اسماعیل کے مطابق ملزمان سے پانچ کلو گرام تیار بارود، ڈیٹونیٹر، ڈیوائس، بال بیئرنگ کے علاوہ مختلف سائز کی بیٹریاں بھی برآمد ہوئی ہیں، ان کے پاس ایک مینوئل بھی موجود تھا جس میں بم بنانے کے مختلف طریقہ کار بتائے گئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ epa
Image caption ملزمان کی گرفتاری کے لیے شکارپور میں دھرنے دیئے گئے اور کراچی تک مارچ بھی کیا گیا

شکارپور میں گزشتہ ماہ ایک مسجد میں خودکش بم حملے میں 60 سے زائد نمازی ہلاک ہوگئے تھے، ملزمان کی گرفتاری کے لیے شکارپور میں دھرنے دیئے گئے اور کراچی تک مارچ بھی کیا گیا۔

ایس ایس پی شکارپور ثاقب اسماعیل نے میڈیا کو بتایا کہ ملزمان نے دھرنے میں پریشر ککر بم دھماکہ کرنے کی منصوبہ بندی کی تھی، لیکن سیکیورٹی انتظامات کے باعث وہ ایسے کرنے میں ناکام رہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم خلیل بروہی کا تعلق بلوچستان کے علاقے ڈیرہ مراد جمالی سے ہے، واضح رہے کہ پولیس کی جانب سے ظاہر کیا گیا گروپ جیش اسلام میں سرگرم شدت پسند گروپ ہے جس پر گزشتہ سال پابندی عائد کی گئی تھی۔

اسی بارے میں