پشاور، کوہاٹ سرچ آپریشن میں درجنوں افغان گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر پشاور اور کوہاٹ میں پولیس نے غیر قانونی طورپر مقیم درجنوں افغان شہریوں اور مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

پشاور پولیس کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے جمعے اور سنیچر کی صبح سٹی ، رورل اور کینٹ سرکلز کی حدود میں بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن کیا گیا اور اس دوران شہر میں غیر قانونی طور پر مقیم 50 کے قریب افغان باشندوں کو گرفتار کر لیا گیا۔

پولیس اہلکاروں کا کہنا ہے کہ حراست میں لیے جانے والے افغان شہریوں کے خلاف 16 فارن ایکٹ کے تحت مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پولیس نے اس کے علاوہ بھی شہر کے مختلف علاقوں سے 100 سے زائد مشتبہ افراد کو حراست میں لیا ہے جن پر دہشت گردوں کو پناہ دینے کا الزام لگایا جاتا ہے۔

ُادھر خیبر پختونخوا کے جنوبی شہر کوہاٹ میں بھی پولیس نے 50 سے زائدافغان شہریوں اور مشتبہ افراد کو گرفتار کیا ہے۔

کوہاٹ پولیس کے ترجمان کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سنیچر کی صبح پولیس نے جنگل خیل کے علاقے میں سرچ آپریشن کے دوران آٹھ افغان باشندوں سمیت 50 کے قریب مشتبہ افراد کو حراست میں لیا۔ انہوں نے کہا کہ گرفتار ہونے والے بیشتر افراد مختلف قسم کے جرائم میں ملوث بتائے جاتے ہیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ سال 16 دسمبر کو آرمی پبلک سکول پشاور پر طالبان حملے کے بعد پولیس اور سکیورٹی فورسز نے صوبہ بھر میں بڑے پیمانے پر کارروائیوں کا سلسلہ شروع کیا۔ ان کارروائیوں میں یہاں غیر قانونی طورپر مقیم ہزاروں افغان باشندوں کو گرفتار کر کے ان کو ملک بدر کیا گیا ہے۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ خیبر پختونخوا کی حکومت نے مختلف مساجد میں کام کرنے والے 300 کے قریب افغان پیش اماموں کو بھی ملک بدر کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلے میں ان کے کوائف اکھٹے کیے جارہے ہیں۔

خیال رہے کہ گذشتہ تین دہائیوں کے دوران پاکستان میں پہلی مرتبہ پولیس نے وسیع پیمانے پر غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کے خلاف کارروائیاں شروع کی ہیں۔

گذشتہ 10 سالوں میں تقریباً 40 لاکھ پناہ گزین واپس افغانستان جا چکے ہیں تاہم اب بھی 17 لاکھ کے قریب افغانی قانونی طور پر بدستور پاکستان میں مقیم ہیں۔

اسی بارے میں