’کراچی میں سیاسی تبدیلی تک دیرپا نتائج کی توقع فضول‘

Image caption ’جب تک کراچی میں سیاسی تبدیلی نہیں آتی کراچی میں آپریشن سے آپ دور رس اور دیرپا نتائج کی توقع نہیں کر سکتے۔‘

کراچی میں بااثر افراد اور گروہوں کا جرائم اور ان کی سرپرستی میں ملوث ہونا ملک کے سب سے بڑے شہر میں جرائم کی ایک بڑی وجہ ہے۔

یہ بات کراچی شہر میں بعض اہم عہدوں پر فائز رہنے والے افسران کی بی بی سی کے ساتھ گفتگو میں سامنے آئی ہے۔

جرائم کے بارے میں بی بی سی اور گیلپ پاکستان کے اشتراک سے ہونے والے ایک سروے میں کراچی میں رہنے والی نصف آبادی نے کہا ہے کہ ان کے خاندان کا کوئی فرد زندگی میں کم از کم ایک مرتبہ سٹریٹ کرائم کا شکار ہو چکا ہے۔

اس موضوع پر کراچی میں ہی ہونے والے مذاکرے میں شریک سٹی پولیس لائزن کمیٹی کے سابقہ سربراہ ناظم حاجی نے کہا ’بی بی سی کی یہ رپورٹ دلچسپ ہے‘ تاہم وہ سمجھتے ہیں کہ جب تک سیاسی تبدیلی نہیں آ جاتی کراچی میں آپریشن کے دور رس نتائج ممکن نہیں۔

’جس شہر میں جرائم بےانتہا ہیں، بےروزگاری بےانتہا ہے، جہاں تعلیم نہیں ہے اور دوسرے شہروں اور ممالک سے آئے ہوئے لوگوں کی مداخلت بہت زیادہ ہے، جب تک کراچی میں سیاسی تبدیلی نہیں آتی کراچی میں آپریشن سے آپ دور رس اور دیرپا نتائج کی توقع نہیں کر سکتے۔‘

انھوں نے اعتراف کیا کہ اب تک ہونے والی کارروائیوں میں کراچی کی بدامنی میں ملوث کوئی بڑا نام یا ’بڑی مچھلی‘ گرفتار نہیں ہو سکی۔

سی پی ایل سی کے سابق چیف نے تجویز دیتے ہوئے کہا کہ شہر میں پولیس کو مضبوط کرنا ہوگا۔

ان کا کہنا تھا پولیس کے پاس مجرموں کے بارے میں جو معلومات ہیں وہ رینجرز کے پاس نہیں ہیں لیکن ’پولیس صرف سیاست زدہ نہیں بلکہ مجرمانہ بھی ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ پولیس میں ترقیاں کارکردگی کی بنیاد پر نہیں بلکہ سنیارٹی کی بنیاد پر ہوتی ہیں۔

اسی گفتگو میں شریک کراچی میونسپل کارپوریشن کے سابق منتظم فہیم زمان نے کہا کہ کراچی شہر میں جتنے بھی بڑے برے نام ہیں وہ کسی نہ کسی حوالے سے جرم میں ملوث ہیں۔

تاہم فہیم زمان ناراضگی اور غصے کے باوجود شہر کی صورتحال سے مایوس نہیں ہیں۔

ان کے خیال میں عوام قوانین توڑنے والوں کے خلاف ردعمل کا اظہار کر کے صورتحال کو بدل سکتی ہے۔

ان کا کہنا ہے ’آخر کار اس صوبے کے لوگوں کو اپنی قسمت کو اپنے ہاتھ میں لینا ہوگا۔‘

اسی بارے میں