’لکھوی کے خلاف نئے مقدمے سے پہلے عدالت کو آگاہ کریں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption دالت نے ملزم کی نظربندی کے احکامات جاری کرنے پر وفاقی حکومت اور اسلام آباد کے ضلعی مجسٹریٹ کو نوٹس جاری کیے ہیں

اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت کو حکم دیا ہے کہ وہ ممبئی حملوں کی سازش تیار کرنے کے مقدمے میں گرفتار ذکی الرحمنٰ لکھوی کے خلاف نیا مقدمہ درج کرنے سے پہلے عدالت کو آگاہ کرے۔

عدالت نے یہ حکم ذکی الرحمنٰ لکھوی کی نظربندی کے خلاف دائر درخواست کی سماعت پر دیا ہے۔

اس مقدمے میں سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ حکومت کو ملزم کے خلاف مقدمہ درج کرنے سے نہ روکا جائے جس پر عدالت کا کہنا تھا کہ کسی بھی شہری کی آزادی کو سلب نہیں کیا جاسکتا اور عدالت حکومت سمیت کسی کو بھی قانون کو ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دے گی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس نوالحق قریشی نے پیر کے روز ذکی الرحمن لکھوی کی نظر بندی کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کی۔

ملزم کے وکیل رضوان عباسی نے درخواست کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت غیر ملکی دباؤ اور بلخصوص بھارت کے دباو میں آ کر اُن کے موکل کو خدشہ نقص امن کے تحت جیل میں رکھے ہوئے ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ استغاثہ ابھی تک یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے کہ رہائی کے بعد ذکی الرحمنٰ لکھوی غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہو سکتے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ محض مفروضوں پر کسی کی آزادی کو سلب نہیں کیا جا سکتا۔

اس مقدمے میں سرکاری وکیل اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے وفاقی حکومت کی طرف سے ایک رپورٹ عدالت میں پیش کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ذکی الرحمنٰ لکھوی کے خلاف ممبئی حملوں کی سازش تیار کرنے اور ایک شخص کے اغوا کے علاوہ پورے پاکستان میں اور کوئی مقدمہ نہیں ہے تاہم اُنھوں نے عدالت سے استدعا کی کہ عدالت مزید شواہد آنے پر حکومت کو ذکی الرحمنٰ لکھوی کے خلاف مزید مقدمات درج کرنے سے نہ روکے۔

عدالت نے یہ استدعا قبول نہیں کی اور کہا کہ کسی کے خلاف غلط مقدمات درج کرنا بھی خلاف قانون ہے۔

یاد رہے کہ ذکی الرحمنٰ لکھوی کی ممبئی حملوں کی سازش تیار کرنے اور ایک شخص کو اغوا کرنے کے مقدمات میں ضمانت ہو چکی ہے جبکہ وفاقی حکومت نے اُنھیں خدشہ نقص امن کے تحت جیل میں ہی رکھا ہے۔

عدالت نے ملزم کی نظربندی کے احکامات جاری کرنے پر وفاقی حکومت اور اسلام آباد کے ضلعی مجسٹریٹ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اُن سے پانچ مارچ کو جواب طلب کرلیا ہے۔

اسی بارے میں