لاہور: نابینا افراد کا مظاہرہ دوسرے روز بھی جاری

Image caption نابینا افراد کا مطالبہ ہے کہ سرکاری ملازمتوں میں نابینا افراد کا کوٹہ دو سے بڑھا کر تین فیصد کیا جائے

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں پنجاب اسمبلی کے باہر نابینا افراد کا مظاہرہ دوسرے روز بھی جاری ہے۔

مختلف سرکاری محکموں سے تعلق رکھنے والے نابینا افراد گذشتہ روز پیر سے اپنی ملازمتوں کو مستقل کروانے اور سرکاری محکموں کی بھرتیوں میں نابینا افراد کا کوٹہ بڑھانے کے لیے احتجاج کررہے ہیں۔

پنجاب اسبملی کے باہر خیمہ زن 50 کے قریب نابینا افراد کو پیر کی رات پنجاب حکومت کی جانب سے سونے کی جگہ بھی دی گئی اور صبح ناشتہ بھی کروایا گیا۔ لیکن حکومت کے یہ اقدامات بھی مظاہرین کو مطمئن نہ کر سکے۔

سرکاری محکموں میں ایڈہاک ملازمتیں کرنے والے یہ افراد دسمبر سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ ان کی ملازمتیں مستقل کی جائیں اور صوبےکی سرکاری ملازمتوں میں نابینا افراد کا کوٹہ دو سے بڑھا کر تین فیصد کیا جائے۔

احتجاج میں شریک ایک نابینا نوجوان رمیز راجہ نے بتایا کہ وہ سوشل ویلفیئر اور سپیشل ایجوکیشن کے سیکریٹریوں کے دفاتر میں چکر لگا لگا کر تھک چکے ہیں اور اب انھیں مجبوراً احتجاج کی راہ اختیار کرنی پڑی ہے تاکہ وزیراعلیٰ تک ان کی آواز پہنچ سکے۔

دسمبر میں مال روڈ پر نابینا افراد کے ساتھ پولیس کی ہاتھاپائی کے بعد پنجاب حکومت کو کافی خفت اٹھانا پڑی تھی جس کے بعد مظاہرین کو وزیراعلیٰ کی جانب سے یقین دہانی کروائی گئی تھی کہ ان کے مطالبات تسلیم کر لیے گئے ہیں اور 24 گھنٹوں میں اس پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔ تاہم مظاہرین کا موقف ہے کہ تین ماہ گزرجانے کے باوجود ان کی کوئی مانگ پوری نہیں ہو سکی۔

Image caption مظاہرین زعیم قادری کی یقین دہانی سے مطمن نہیں ہوئے

پنجاب حکومت کے ترجمان زعیم قادری نے نابینا افراد سے مذاکرات کیے تھے جو کہ نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو سکے تھے۔ زعیم قادری نے مظاہرین کو یقین دہانی کروائی تھی کہ ان کے مطالبات پہلے ہی تسلیم ہو چکے ہیں اور اب ان پر عمل درآمد بھی شروع کر دیا جائے گا۔ کوٹہ کو بڑھانے کے لیے قانون کا مسودہ بھی پنجاب اسمبلی میں جمع کروایا جا چکا ہے جو کہ جلد منظور کر لیا جائے گا۔ تاہم مظاہرین زعیم قادری کی یقین دہانی سے مطمن نہیں ہوئے۔

احتجاج میں شریک ایک نابینا نوجوان، جہنوں نے گذشتہ برس پنجاب یونیورسٹی کے لا کالج سے ٹاپ کیا تھا،نے بتایا کہ دو فیصد کوٹہ تو موجود ہے اس پر بھی عمل درآمد نہیں ہ ورہا۔ اگر یہ کوٹہ ہی مل جائے تو کوئی نابینا شخص بیروزگار نہ رہے۔

’یہ لوگ جو حکومت اور اسمبلیوں میں بیٹھے ہیں یہ خود کتنے قابل ہیں۔ انھوں نے کہاں سے ڈگریاں لیں ہیں اور کہاں ٹاپ کیا ہے۔ خود تو ان میں سے کئی جعلی ڈگریاں لے کر بیٹھے ہوئے ہیں اور ہم جو محنت کرکے پاس ہوکر آتے ہیں ہمارے لیے کوئی مواقع نہیں۔‘

Image caption نابینا افراد کے ساتھ اسمبلی کے باہر چیرنگ کراس پر سڑک پر دھرنا دے کر شاہراہ کو بند کردیا

پیر کی رات اسمبلی کے باہر گزارنے کے بعد صبح ایک مرتبہ پھر مظاہرین نے پنجاب اسمبلی کی مرکزی عمارت میں داخل ہونے کی کوشش کی، جہاں آج کل اجلاس ہو رہا ہے۔ تاہم سکیورٹی اہلکاروں نے انھیں اندر داخل نہیں ہونے دیا۔اس موقع پر کچھ دھکم پیل تو ہوئی تاہم دسمبر میں ہونے والے واقعے کی وجہ سے سکیورٹی اہلکاروں نے طاقت کے استعمال سے گریز کیا۔

پاکستان تحریک انصاف کے کارکن گذشتہ برس اگست میں دھرنے کے بعد سے اسمبلی کی کارروائی میں شریک نہیں ہو رہے۔ تاہم منگل کو وہ نابینا افراد سے یکجہتی کے لیے پنجاب اسملبی آئے۔ تحریک انصاف کی رہنما عندلیب عباس کا کہنا تھا کہ انھیں جب سے اس اجتجاج کا علم ہوا ہے وہ مظاہرین کے ساتھ احتجاج میں شریک ہیں۔

’ان کا مطالبہ بہت جائز ہے۔ حکومت نے ان سے خود وعدہ کیا ہے تین فیصد کوٹہ کا۔ تو اب وعدے کو نبھائیں۔ یا تو نابینا افراد میں تعلیم کی کمی ہو۔ لیکن کمی نابینا افراد میں نہیں بلکہ حکومت میں ہے، دل کی، دماغ کی اور آنکھوں کی بھی۔‘

Image caption تحریک انصاف کی رہنما عندلیب عباس کا کہنا تھا کہ انھیں جب سے اس اجتجاج کا علم ہوا ہے وہ مظاہرین کے ساتھ احتجاج میں شریک ہیں

پاکستان تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی کی کارروائی میں تو شریک نہیں ہوئے تاہم نابینا افراد کے ساتھ اسمبلی کے باہر چیئرنگ کراس پر سڑک پر دھرنا دے کر شاہراہ کو بند کر دیا جس سے شہر کے کئی علاقوں میں ٹریفک کی روانی متاثر رہی۔

تحریک انصاف کے رہنما اور پنجاب اسمبلی کے قائد حزب اختلاف میاں محمودالرشید کا کہنا تھا کہ جب تک عوام سڑکوں پر نہ آئیں حکومت کوئی مطالبہ ماننے کو تیار نہیں۔

’یہاں پر جونئیر ڈاکٹر لیڈی ہیلتھ وزیٹر اساتذہ اور نابینا افراد سب ہی دھرنے دے چکے ہیں احتجاج کر چکے ہیں لیکن جب تک کوئی بھی اپنے جسم پر لاٹھیاں نہ کھائے پنجاب حکومت کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔‘

اسی بارے میں