سینیٹ انتخاب خفیہ رائے شماری سے ہی ہوگا، موبائل لانے پر پابندی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سینیٹ کے انتخابات کے لیے پولنگ جمعرات کو پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد اور چاروں صوبائی اسمبلیوں میں ہوگی۔

پاکستان کے ایوانِ بالا کی 52 نشستوں کے لیے الیکشن پانچ مارچ کو ہو رہا ہے اور الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ ان انتخابات میں خفیہ رائے شماری کے ذریعے ہی ارکان کا انتخاب ہوگا۔

پاکستان کے الیکشن کمیشن کی جانب سے منگل کو جاری کردہ بیان کے مطابق ان انتخابات کے ریٹرننگ افسران کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ رائے دہندگان ووٹنگ کے عمل کو خفیہ رکھنے کی خلاف ورزی نہ ہو سکے۔

الیکشن کمیشن نے ووٹ ڈالنے کے لیے آنے والے قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کے موبائل فون یا کوئی ایسی الیکٹرانک ڈیوائس ساتھ لانے پر پابندی عائد کر دی ہے جس سے ووٹ کی پرچی کی تصویر لی جا سکے۔

سینیٹ کے انتخابات کے لیے پولنگ جمعرات کو پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد اور چاروں صوبائی اسمبلیوں میں ہوگی۔

خیال رہے کہ ان انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ روکنے کے لیے تحریکِ انصاف سمیت کچھ جماعتوں نے خفیہ رائے شماری کی جگہ کھلے عام ووٹنگ کا مطالبہ کیا تھا۔

اس سلسلے میں حکومت نے رائے شماری کے طریقۂ کار میں تبدیلی کے لیے آئین میں ترمیم کرنے کا ارادہ بھی کیا تھا تاہم پیپلز پارٹی اور جمیعت علمائے اسلام کی جانب سے مبینہ مخالفت کے بعد ایسا ممکن نہیں ہو سکا تھا۔

آئینِ پاکستان کے تحت صوبوں، اسلام آباد اور فاٹا سے تعلق رکھنے والے سینیٹ کے نصف ارکان ہر تین سال بعد ریٹائر ہوتے ہیں۔

ایوانِ بالا میں اس وقت سب سے زیادہ نشستیں پاکستان پیپلز پارٹی کے پاس ہیں جس کے اراکین کی تعداد 40 ہے اور اس میں سے 21 اراکین 11 مارچ کو ریٹائر ہو جائیں گے۔

حکمران جماعت مسلم لیگ ن کے اراکینِ سینیٹ کی تعداد 16 ہے جن میں سے آٹھ کی نشستیں خالی ہو رہی ہیں۔

اسی بارے میں