بلوچ کارکنوں کو بیرونِ ملک سفر سے روکے جانے کی مذمت

Image caption ایئر پورٹ پہنچنے پر حکام نے بتایا کہ ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل ہے اور وہ بیرون ملک سفر نہیں کر سکتے : قدیر بلوچ

پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق نے تین بلوچ کارکنوں کو بیرونِ ملک سفر کرنے سے روکے جانے کی مذمت کی ہے۔

جمعرات کو جاری ہونے والے بیان میں پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق نےکہا کہ ’ایچ آر سی پی کو شدید افسوس ہے کہ ایف آئی اے کے حکام نے ماما قدیر اور انسانی حقوق کے دو دیگر کارکنوں کو بیرونِ ملک سفر کرنے سے روک دیا جب وہ امریکہ جانے والی پرواز پر سوار ہونے والے تھے۔‘

بیان کے مطابق ان کے دورے کا مقصد سندھ اور بلوچستان میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کے متعلق منعقد ہونے والے سیمینار میں شرکت کرنا تھا۔

بیان میں پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعے کی تحقیقات کی جائیں اور عوام کو آگاہ کیا جائے کہ کارکنوں کو بیرون ملک سفر سے روکنے کا حکم کس نے اور کیوں دیا تھا۔

’انھیں بیرون ملک سفر سے روکنے کا فیصلہ نہ صرف نقل و حرکت کی آزادی کے منافی ہے بلکہ اس سے بلوچوں کے احساسِ محرومی میں اور زیادہ اضافہ ہوا ہے۔‘

واضح رہے کہ بدھ کے شب بلوچستان سے لاپتہ نوجوانوں کے لواحقین کی تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین عبدالقدیر بلوچ کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان نے انھیں امریکہ جانے کی اجازت نہیں دی ہے، اور انھیں حکام نے مطلع کیا تھا کہ ریاست مخالف سرگرمیوں کی وجہ سے ان کے نام ایگزکٹ کنٹرول لسٹ میں شامل ہیں۔

ایئرپورٹ سے واپسی کے وقت عبدالقدیر بلوچ نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں نیویارک میں سندھی کمیونٹی نے اپنی ایک تقریب میں شرکت کی دعوت دی تھی، جس کے لیے انہیں، فرازنہ مجید اور فائقہ کو امریکی حکومت نے پانچ سال کا ویزہ دیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ ان کی بدھ کی شب ابوظہبی اور وہاں سے نیویارک کے لیے روانگی تھی لیکن جب وہ کراچی ایئرپورٹ پہنچے اور بورڈنگ پاس لے کر ایف آئی اے کے کاؤنٹر تک آئے تو حکام نے جہاز میں سوار ہونے کی اجازت دینے سے انکار کیا اور کہا کہ ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ہے۔

قدیر بلوچ کے مطابق انہوں نے حکام کو آگاہ کیا کہ انہیں بیرون ملک سفر پر پابندی کی کبھی کوئی اطلاع نہیں ملی نہ کبھی ایسے کسی حکم نامے کے بارے میں میڈیا میں کوئی خبر آئی ہے لیکن حکام نے ان کا موقف تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے عبدالقدیر بلوچ جنیوا، ناروے، سوئٹرزلینڈ اور ہانگ کانگ میں انسانی حقوق کی تنظیموں کی دعوت پر ویزہ نہ ملنے کی وجہ سے شرکت نہیں کر سکے تھے۔

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین عبدالقدیر بلوچ کے لاپتہ بیٹے عبدالجلیل کی لاش 2011 میں برآمد ہوئی تھی، لیکن انہوں نے اس جدوجہد سے دستبردار ہونے کے بجائے اپنی زندگی اس کے لیے وقف کردی اب وہ اقوام متحدہ کے ہیڈکورٹر جنیوا تک پیدل مارچ کے خواہشمند ہیں۔

بلوچستان سے لاپتہ نوجوانوں کے لواحقین نے جولائی 2009 میں وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کی بنیاد رکھی تھی جس کے بعد بلوچستان کے علاوہ کراچی اور اسلام آباد میں بھی یہ کیمپ لگایا گیا۔

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز نے اس وقت کٹھن اور تکلیف دہ قدم اٹھایا جب کوئٹہ سے اسلام آباد تک پیدل مارچ کیا گیا اور وہ دنیا بھر کی انسانی حقوق کی تنظیموں اور میڈیا کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔اس لانگ مارچ کو 28 فروری کو ایک سال مکمل ہوا ہے ۔

اس پیدل مارچ کا آغاز کوئٹہ سے ہوا جو بعد میں کراچی پہنچا چند روز کے قیام کے بعد دوبارہ اسلام آباد روانہ ہوا۔ لاپتہ افراد کے لواحقین نے تقریبا 107 روز کا سفر طے کرکے پرامن اور طویل مارچ کی ایک نئی مثال قائم کی۔

اسی بارے میں