’شدت پسند تنظیمیں ایک ہی عفریت کی مختلف شکلیں ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption خواجہ آصف کے بقول بھارت کی جانب سے دفاعی بجٹ میں غیرمعمولی اضافہ اس کے جنگی جنون کو بڑھا رہا ہے

پاکستان کا کہنا ہے کہ بھارت کے ساتھ مذاکرات کا آغاز ایک اچھا شگون ہے اور اگر دونوں ممالک مخلص ہوئے تو اچھے نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔

وزیر دفاع خواجہ آصف کا بی بی سی اردو کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے دفاعی بجٹ میں غیرمعمولی اضافہ اس کے جنگی جنون کو بڑھا رہا ہے اور خطے کے دیگر ممالک کو بھی ایسے ہی اقدامات اٹھانے پڑیں گے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ شدت پسندی کے خلاف ملک گیر مہم محض ان تنظیموں کے خلاف دکھائی دیتی ہیں جو ریاست کو چیلنج کر رہی ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ جب تک شدت پسندی کا جڑ سے خاتمہ نہیں کیا جائے گا تمام عسکریت پسند تنظیموں کا خاتمہ ممکن نہیں۔

’ان کو آپ علیحدہ علیحدہ نہیں کرسکتے ہیں۔ کوئی کسی ہدف کو لے کر بیٹھا ہوا ہے، کوئی کسی فرینچائز کو لے کر بیٹھا ہوا ہے۔‘

’ایک ہی چیز کی مختلف شکلیں اور صورتیں ہیں۔ لہٰذا جہاں سے یہ ایول (عفریت) باہر نکلتا ہے اگر اسے ہم تباہ کر دیتے ہیں تو انشا اللہ یہ مضافات میں بیٹھی تنظیمیں خود بخود ختم ہو جائیں گی۔‘

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ بھارت کا دفاعی بحٹ میں اضافے کا اعلان سب کے لیے باعث تشویش ہے۔

’بھارت جس رجحان کو فروغ دے رہا ہے کہ وہ غربت بڑھا رہا ہے اور غریب کے منہ سے نوالہ چھین کر کہیں اور ڈال رہا ہے تو یہ اچھا نہیں۔ دیگر ممالک کو بھی یہی کرنا پڑے گا۔‘

ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ بھی اس مرتبہ اپنے بجٹ میں اس کی تقلید کریں گے؟ تو ان کا کہنا تھا کہ جب بجٹ آئے گا تو تب دیکھیں گے۔

تاہم انھوں نے واضح کیا کہ ’ہمارے وزیر اعظم تو 24 میں سے 26 گھنٹے معاشی مسائل کے حل کی کوششوں میں صرف کر رہے ہیں۔‘

اسی بارے میں