فائرنگ میں اہل سنت والجماعت کے رہنما سمیت دو ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اہل سنت والجماعت کے ترجمان کے مطابق ڈاکٹر فیاض تنظیم کے کراچی کی جنرل سیکریٹری تھے

پاکستان کے شہر کراچی میں نامعلوم افراد نے ایک گاڑی پر فائرنگ کر کے دو افراد کو ہلاک کر دیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں مرنے والا شحض اہل سنت والجماعت کے رہنما اور ان کا ڈرائیور ہلاک ہوئے ہیں۔

کراچی میں بارہ گھنٹے میں فرقہ ورانہ بنیادوں پر تین افراد کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق شیر شاہ کے علاقے میں موٹر سائیکل پر سوار مسلح افراد نے حکومت کی جانب سے کالعدم قرار دی جانے والی تنظیم اہل سنت و الجماعت کے رہنما ڈاکٹر فیاض کی کار پر فائرنگ کی جس میں وہ اپنے ڈرائیور محمد عارف سمیت ہلاک ہوگئے۔

اہل سنت والجماعت کے ترجمان کے مطابق ڈاکٹر فیاض تنظیم کے کراچی کی جنرل سیکریٹری تھے۔

اہل سنت و الجماعت کے سربراہ مولانا احمد لدھیانوی کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر فیاض کے قتل کا سبب شاید اس کی بردباری اور متحمل مزاجی ہے، مخالفین پرامن رہنماوں اور کارکنوں کو نشانہ بناکر فسادات کو تسلسل دینا چاہتا ہے۔

دوسری جانب اس ہلاکت پر اہل سنت والجماعت نے اسلام آباد کے علاقے آبپارہ اور کشمیر ہائی وے پر دھرنا دے رکھا ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل کراچی میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ایک وکیل ہلاک ہوگئے تھے۔ پولیس کا کہنا تھا کہ مقتول حسنین بخاری کا تعلق متحدہ قومی موومنٹ سے تھا۔

یہ واقعہ کورنگی نمبر ڈھائی کے علاقے میں بدھ کی صبح پیش آیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ حسنین بخاری گھر سے عدالت جا رہے تھے کہ نامعلوم افراد نے ان کی کار پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوگئے۔

انھیں جناح ہپستال پہنچایا گیا لیکن وہ راستے میں زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسے۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ان پر نائن ایم ایم پستول سے فائرنگ کی گئی۔

ایم کیو ایم کے ترجمان واسع جلیل نے بی بی سی کو بتایا کہ مقتول حسنین بخاری پارٹی کے سینیئر وکیل اور لیگل ایڈ کمیٹی کے ایک اہم رکن تھے۔