پشاور سکول حملے کے ہلاک شدگان کے لیے اعزازات

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کے صدر ممنون حسین نے پشاور کے آرمی پبلک سکول پر طالبان کے حملے میں ہلاک ہونے والے 142 افراد کو بعداز مرگ تمغۂ شجاعت و ستارۂ شجاعت کے اعزازات دینے کی منظوری دی ہے۔

ایوانِ صدر کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ان اعزازت کی منظوری وزیرِ اعظم پاکستان محمد نواز شریف کی تجویز پر دی ہے۔

ان کے مطابق جن 142 افراد کو بعداز مرگ ایوارڈ دینے کی منظوری دی گئی ہے ان میں سکول کے 122 طلبہ، دو اساتذہ اور دیگر عملے کے 20 ارکان شامل ہیں۔

حکومتِ پاکستان کی جانب سے یہ سول ایوارڈز جرات و بہادری کا مظاہرہ کرنے والے شہریوں کو دیے جاتے ہیں۔

وزیراعظم نواز شریف نے صدر کو تین مارچ کو تحریری طور پر تجویز دی تھی کہ پشاور کے آرمی پبلک سکول پر دہشت گردوں کے حملے میں ہلاک ہونے والے 122 بچوں، دو اساتذہ اور عملے کے 20 اراکین کو تمغۂ شجاعت اور ستارۂ شجاعت سے نوازا جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سکول پر حملے کی منظوری تحریکِ طالبان پاکستان کے سربراہ ملا فضل اللہ نے دی تھی

یاد رہے کہ پشاور حملے میں ہلاک ہونے والے کل بچوں کی تعداد 134 بتائی جاتی ہے جبکہ ہلاک ہونے والے اساتذہ کی تعداد نو تھی۔

اس حملے کے بعد پاکستان میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں ایک نئے قومی ایکشن پلان کے تحت شروع کی گئی تھیں۔

گذشتہ ماہ پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ آرمی پبلک سکول پر حملہ کرنے والے 27 رکنی گروپ کی شناخت ہو چکی ہے جس کے نو ارکان مارے گئے جبکہ 12 سے زائد کی گرفتاری ہو چکی ہے۔

اسی بارے میں