سابق چیف جسٹس کی بلٹ پروف گاڑی، 33 لاکھ کے اخراجات

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سابق چیف جسٹس افتخاری چوہدری کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر بلٹ پروف گاڑی دی گئی تھی

پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید کا کہنا ہے کہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کے سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری نے عہدے چھوڑنے کے بعد سرکاری گاڑی اپنی تحویل میں رکھی ہے اور اس گاڑی کے اخراجات بھی سرکاری خزانے سے ادا کیا جا رہے ہیں۔

وزیر اطلاعات پرویز رشید نے سینیٹ میں جمع کروائے گئے تحریری جواب میں سپریم کورٹ سے ریٹائرڈ ہونے والے چیف جسٹس صاحبان کو ملنے والی مراعات کی تفصیلات فراہم کیں۔

انھوں نے بتایا کہ چیف جسٹس صاحبان کو 1800 سی سی کار ملتی ہے لیکن سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کو اسلام آباد ہائی کورٹ کی ہدایت پر 6000 سی سی بلٹ پروف کار دی گئی تھی۔ پرویز رشید نے بتایا کہ 2014 سے لے کر اب کایبنہ ڈویژن گاڑی کے اخراجات ادا کر رہا ہے۔

سینیٹ میں جمع کروائے گئے تحریری جواب کے مطابق افتخار چوہدری کو اب تک 4689 لیٹر پیٹرول فراہم کیا گیا ہے اور گاڑی کی مرمت کی مد میں سرکاری خزانے سے 33 لاکھ 75 ہزار روپے ادا کیے گئے ہیں۔

ایوان کو فراہم کی گئی تفصیلات کے مطابق سرکار کی جانب سے سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس صاحبان کو ماہانہ تین سو لیٹر پیٹرول دیا جاتا ہے جبکہ تین ہزار ٹیلیفون کالز، بجلی کے 2000 یونٹس اور پانی مفت دیا جاتا ہے۔

چیف جسٹس صاحبان کو ملنے والی پنشنز اور دیگر مراعات انکم ٹیکس سے مستشنی ہوتی ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے ایوان کو بتایا کہ حکومت نے 32 سرکاری اداروں کی نجکاری کرنا ہے اور ان 32 سرکاری اداروں میں 19 سرکاری ادارے ایسے بھی ہیں منافع میں ہیں۔

حکومت نے قومی ایئر لائن پی آئی اے، پاکستان سٹیل ملز، او جی ڈی سی ایل، پی پی ایل سمیت دیگر اداروں کی نجی سرمایہ کاروں کے ہاتھوں فروخت کرنے کی منصوبہ بندی کر رکھی ہے۔

وزیرِ مملکت برائے داخلہ بلیغ الرحمان نے اجلاس کو بتایا کہ ملک میں 127 غیر ملکی نجی تنظمیں کام کر رہی ہیں جو بیرون ممالک سے امداد بھی لیتی ہیں۔انھوں نے بتایا کہ صرف 19 این جی اوز ایسی ہیں جو رجسٹرڈ ہیں حکومت بین الاقوامی غیر سرکاری تنظمیوں کی رجسٹریشن کر رہی ہے۔

اسی بارے میں