وزیراعظم کے خلاف آرٹیکل چھ کے تحت کارروائی، نوٹس جاری

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption وزیراعظم نے آئین کی خلاف ورزی کی ہے اس لیے اُن کے خلاف آرٹیکل چھ کے تحت کاروائی کی جائے: درخواست گزار

لاہور ہائی کورٹ نے وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف آرٹیکل چھ کے تحت کارروائی کی درخواست پر وفاقی حکومت کو نوٹس جاری کردیا ہے۔

وزیر اعظم کے خلاف آرٹیکل چھ کے تحت کارروائی کی درخواست ایک شہری سید اقتدار حیسن شاہ کی جانب سے دائر کی گئی ہے۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ وزیراعظم نوازشریف نے اپنی بیٹی مریم صفدر کو نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کے لیے وزیراعظم کی قرضہ سکیم پرائم منسٹر یوتھ لون سکیم کا سربراہ مقرر کیا ہے۔

درخواست گزار کا کہنا تھا کہ قومی شناختی کارڈ پر وزیراعظم کی صاحبزادی کا نام مریم صفدر ہے جبکہ انھیں یوتھ لون کا سربراہ مقرر کرتے ہوئے مریم نواز کے نام سے نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا۔

عدالت میں دائر گئی درخواست کے مطابق اس عمل کے ارتکاب سے وزیر اعظم نے عوام سے غلط بیانی اور دھوکہ دہی کی اور اس طرح سے وہ آئین کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں لہٰذا ان کے خلاف آرٹیکل چھ کے تحت کاروائی کی جائے۔

اس سے پہلے لاہور ہائیکورٹ کے ایک رکنی بنچ نے اس درخواست کو ناقابل سماعت قرار دیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مریم نواز وزیراعظم یوتھ پروگرام کے سربراہ کے عہدے سے دستبردار ہو گئی ہیں

درخواست گزار نے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی تھی۔ اب اس درخواست کی سماعت لاہور ہائی کورٹ کا دو رکنی بینچ کررہا ہے۔ بینچ کی جانب سے وفاقی حکومت کو بیس مئی کا نوٹس جاری کردیا گیا۔

یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ مریم نواز وزیر اعظم یوتھ پروگرام کے سربراہ کے عہدے سے دستبردار ہو گئی ہیں۔

مریم نواز کی یوتھ پروگرام میں تعیناتی کو پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ ان کا موقف تھا کہ وزیراعظم نے یہ عہدہ اپنی بیٹی کو دے کر قانون اور قواعد کو نظر انداز کیا ہے۔

اس سے پہلے بھی لاہور ہائی کورٹ میں مریم نواز شریف کو ملنے والے اس عہدے کے خلاف ایک اور درخواست دائر کی گئی تھی۔

اسی بارے میں