’چیئرمین سینیٹ کس کا ہوگا‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption 11 مارچ کو نئے منتخب ہونے والے 52 اراکین حلف اُٹھائیں گے

حالیہ سینیٹ انتخابات میں زیادہ نشستیں جیتنے کے باوجود حکمران جماعت مسلم لیگ سینیٹ میں واحد اکثریتی جماعت کا درجہ حاصل نہیں کر پائی ہے جس کی وجہ سے سینیٹ چیئرمین کے عہدے کا حصول اس کے لیے مشکل ثابت ہوگا۔

اس کے باوجود مسلم لیگ نواز کے رہنما خاصے پر امید دکھائی دے رہے ہیں کہ نمبر گیم میں بظاہر پیچھے رہ جانے کے باوجود وہ ملک کے دوسرے اعلیٰ ترین آئینی عہدے تک رسائی حاصل کر لیں گے۔

سینیٹ میں اس وقت پارٹی پوزیشن ظاہر کرتی ہے کہ حزب اختلاف کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی حالیہ انتخابات میں بری کارکردگی کے باوجود ابھی تک ایوانِ بالا میں سب سے زیادہ نشستیں رکھنے والی جماعت ہے۔

اس کے علاوہ ان انتخابات میں اس کی اتحادی جماعتیں متحدہ قومی موومنٹ، عوامی نیشنل پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام کی نشستیں ملا کر یہ اتحاد باآسانی اپنا چیئرمین منتخب کروا سکتے ہیں۔

لیکن مسلم لیگ نواز کے رہنما، نو منتخب سینیٹر اور وفاقی کابینہ کے رکن مشاہد اللہ خان کہتے ہیں کہ معاملہ اتنا بھی سادہ نہیں ہے۔

’پیپلز پارٹی اور متحدہ وغیرہ کے جس اتحاد کا آپ ذکر کر رہے ہیں وہ سینیٹ کے انتخابات کی حد تک تھا۔ وہ مرحلہ مکمل ہو چکا ہے۔ جس نے جیتنا تھا وہ جیت گیا۔ اب ایک دو روز بعد سینیٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے لیے جوڑ توڑ اور اتحادوں کا نیا مرحلہ شروع ہوگا۔‘

مسلم لیگ نواز کے رہنما کہتے ہیں کہ اس نئے مرحلے پر نئے اتحاد بنیں گے۔ نئے جوڑ توڑ ہوں گے اور نئے سرے سے مذاکرات ہوں گے۔

پاکستان کی سینیٹ کے سابق رکُن اور سینیئر سیاست اور قانون دان ایس ایم ظفر کے مطابق ’اس طرح‘ کے جوڑ توڑ میں حکومت عموماً فائدے میں رہتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption نو منتخب سینیٹر اور وفاقی کابینہ کے رکن مشاہد اللہ خان کہتے ہیں کہ معاملہ اتنا بھی سادہ نہیں ہے

’حکومت کے پاس دینے کو بہت کچھ ہوتا ہے اور ہماری روایتی سیاست میں اس طرح کی صورتحال میں لین دین کا بہت کردار ہوتا ہے۔ اس لیے پیپلز پارٹی اور اتحادیوں کے پاس زیادہ ارکان ہونے کے باوجود یہ کہنا مشکل ہے کہ اگلا چیئرمین سینیٹ اسی اتحاد سے ہو گا۔‘

ایس ایم ظفر نے کہا کہ سابق صدر آصف زرداری کی ’مک مکا‘ کی سیاست ابھی تک بہت کامیاب رہی ہے اور اگر یہی پالیسی کامیابی سے چلتی ہے تو آنے والے دنوں میں بھی وہ کوئی حیران کن صورتحال پیدا کر سکتے ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر سعید غنی کا کہنا ہے کہ سینیٹ میں جو پارٹی پوزیشن بنی ہے اس کے پیش نظر یہ سامنے کی بات نظر آتی ہے کہ پیپلز پارٹی اور اس کے اتحادیوں کے لیے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ منتخب کروانا مشکل نہیں ہوگا۔

انھوں نے بتایا کہ پیپلز پارٹی اور اتحادی جماعتیں با آسانی مطلوبہ اکثریت حاصل کر سکتی ہیں۔

’ عوامی نیشنل پارٹی، مسلم لیگ ق، بلوچستان نیشنل پارٹی اور ایم کیو ایم کے ووٹ اگر اکٹھے کر لیں تو ہمارے نمبرز باآسانی پورے ہو جاتے ہیں۔ ہم یہ بھی کوشش کر رہے ہیں کہ پاکستان تحریک انصاف سے بھی ووٹ حاصل کر لیں۔‘

سعید غنی نے کہا کہ اگر تحریک انصاف ان انتخابات میں حصہ نہیں لیتی تو اس کا فائدہ بھی پیپلز پارٹی ہی کو ہو گا اور اس کے لیے مطلوبہ اکثریت حاصل کرنا اور بھی آسان ہو جائے گا۔

چیئرمین سینیٹ کے لیے ہونے والی اس کھینچا تانی میں چھوٹی جماعتوں اور آزاد امیدواروں کی اہمیت ایک بار پھر بہت بڑھ گئی ہے۔

11 مارچ کو نئے منتخب ہونے والے 52 اراکین جس وقت حلف لیں گے اُس وقت جمعیت علمائے اسلام ( ف) کے پانچ، پاکستان مسلم لیگ (ق) کے چار، نیشنل پارٹی اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے تین، بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) کے دو اور مسلم لیگ فنکشنل، جماعتِ اسلامی اور بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل گروپ) کے ایک ایک رکن بھی ایوان میں موجود ہوں گے۔ جبکہ چھ آزاد ارکان بھی نئے ارکان کے طور پر حلف اٹھائیں گے۔

قبائلی علاقوں سے کب اور کون منتخب ہو کر ایوان بالا میں آتا ہے یہ بھی خاصا اہم معاملہ ہو سکتا ہے۔

جہاں تک کون کا تعلق ہے تو مسلم لیگ (ن) ان چار میں سے دو نشستوں پر دعوے دار ہے۔ فاٹا کے سینیٹرز کے انتخابی عمل میں الیکشن سے ایک روز قبل تبدیلی کرنے کو فاٹا سے ارکان قومی اسمبلی نے عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے۔

الیکشن کمیشن نے اسی بنیاد پر فاٹا کے ارکان کے انتخابات التوا میں ڈال دیے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جب تک عدالت اس مقدمے کا فیصلہ نہیں کرتی، فاٹا ارکان کا انتخاب نہیں ہو سکتا۔

آئینی ماہر ایس ایم ظفر کہتے ہیں کہ جب تک سینیٹ کے انتخابات مکمل نہیں ہوتے، ایوان مکمل نہیں ہوتا اور جب تک ایوان مکمل نہیں ہوتا سینیٹ کے چیئرمین کا انتخاب نہیں ہو سکتا۔

ان سب رکاوٹوں کے بادوجود مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی اپنے اپنے مجوزہ چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے لیے مختلف ناموں پرغور کر رہے ہیں۔

مسلم لیگ کی فہرست میں اس کے نو منتخب سینیٹر اور سینئر پارٹی رہنما راجہ ظفرالحق، اقبال ظفر جھگڑا، اور رفیق رجوانہ جبکہ پیپلز پارٹی کی جانب سے سابق چیئرمین سینیٹ فاروق ایچ نائیک اور سینیٹر رحمٰن ملک خاصے متحرک نظر آ رہے ہیں۔