کم عمری کی شادیوں کے خلاف ایک تنہا آواز

Image caption حدیقہ نے اپنی مہم کے حوالے سے بی بی سی کو بتایا کہ مہم کے دوران بعض اوقات انہیں لوگوں کے سخت رویے کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے

آٹھویں جماعت میں پڑھنے والی حدیقہ بشیر کا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع سوات سے ہے جو کم عمری کی شادی جیسے ضرر رساں روایت کے خاتمے اور لڑکیوں کو ان کی صلاحیتوں سے بھر پور مستفید ہونے کا موقع دینے کے لیے جدو جہد کر رہی ہیں۔

سماج میں لوگوں کو آگاہی دینے کے لیے حدیقہ گذشتہ ایک سال سے گھر گھر جاکر شعور دینے کی کوششش کر رہی ہیں۔

ان کاکہنا ہے ’ کم عمری کی شادی کی بڑی وجہ غربت ہے۔ والدین اپنے بچیوں کے تعلیمی اخراجات برداشت نہیں کر پاتے اور مجبوراً اس کی شادی کم عمری میں کرتے ہیں۔‘

ان کے مطابق ان کی دادی بھی ان کی شادی کم عمری میں کرانا چاہتی تھیں مگر انہوں نے کہا کہ انھوں نے اپنی دادی سے کہا کہ اگر آپ ایسا کریں گی تو میں پولیس سٹیشن چلی جاؤوں گی۔

حدیقہ نے اپنی مہم کے حوالے سے بی بی سی کو بتایا کہ مہم کے دوران بعض اوقات انہیں لوگوں کے سخت رویے کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔

حدیقہ کا کہنا تھا کہ وہ پرامید ہیں کہ ان کی یہ محنت ضرور رنگ لائے گی کیونکہ کم عمری کی شادی اور تعلیم میں رکاوٹ لڑکیوں کے خلاف سب سے بڑا ظلم ہے۔‘

حدیقہ کے والد افتخار حسین کا کہنا ہے کہ وہ مکمل طور پر اپنی بیٹی کو سپورٹ کرتے ہیں اور انہیں خوشی ہے کہ وہ اس عمر میں اپنے اور دیگر بچیوں کے حقوق کے لیے جدو جہد کر رہی ہے۔

افتخار نے بتایا ’ایسے بہت سے کیسز سوات میں رپورٹ ہو رہے ہیں جس میں بچیوں پر بے انتہا تشدد ہوتا ہے۔ ان کے ناک اور پیر کاٹ دیے جاتے ہیں۔ کم عمری کی شادی کے بعد انہیں تشدد کے لیے چھوڑا جاتا ہے کیونکہ سات یا آٹھ سال کی عمر میں بچی گھر سنبھالنے کے قابل نہیں ہوتیں اور ذمہ داریاں پوری نہ کرنے کے بدلے انہیں تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔‘

Image caption میں اس قربانی کو دینے کےلیے تیار ہوں۔ میں نے اپنی بیٹی کو اس حوالے سے مکمل طور پر آزادی دی ہے کیونکہ میں بیٹی اور بیٹوں میں فرق نہیں کرتا اور یہی وجہ ہے کہ ان کو سپورٹ بھی کرتا ہوں: والد

افتخار کے مطابق انہیں اس بات کا علم ہے کہ ان کی بیٹی پر مہم کے دوران تشدد ہو سکتا ہے کیونکہ وہ حق کی بات کرتی ہے اور معاشرے میں رہنے والے لوگوں کی سوچ ایک جیسی نہیں ہوتی۔

’میں اس قربانی کو دینے کےلیے تیار ہوں۔ میں نے اپنی بیٹی کو اس حوالے سے مکمل طور پر آزادی دی ہے کیونکہ میں بیٹی اور بیٹوں میں فرق نہیں کرتا اور یہی وجہ ہے کہ ان کو سپورٹ بھی کرتا ہوں۔ یہ ان کی اپنی زندگی ہے اور انھیں اپنا فیصلہ کرنے کا پورا پورا حق ہے۔ لیکن کچھ چیزوں میں ہم ان کی رہنمائی کرتے ہیں تاکہ یہ کلچر اور سوسائٹی کے اندر رہے۔‘

حدیقہ کے مطابق اس تنگ نظر معاشرے میں یہ پیغام پہنچانا کچھ حد تک مشکل کام دکھائی دیتا ہے لیکن ان کا عزم متزلزل نہیں ہوگا اور وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوں گی۔

پاکستان میں کم عمری کی شادی سماجی طور پر قبول شدہ ایک رواج ہے جس کی بنیادی وجہ غربت، تعلیم کی کمی، قبائلی و سماجی رسم و رواج اور قانون پر عمل درآمد نہ ہونا بتایا جاتا ہے۔

اسی بارے میں