’دہشت گردوں کے خاتمے تک کارروئیاں جاری رہیں گی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف کاروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک ان کا مکمل طورپر خاتمہ نہیں ہوجاتا۔

جنرل راحیل شریف نے سنیچر کو پشاور کا مختصر دورہ کیا جہاں کورہیڈ کوارٹرز میں انہیں شمالی وزیرستان اور خیبر ایجنسیوں میں شدت پسندوں کے خلاف جاری آپریشن ضرب عضب اور خیبر ون میں پیش رفت سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بری فوج کے سربراہ کو خیبر پختونخوا اور فاٹا میں امن و امان کے بارے میں بھی تفصیلی طورپر آگاہ کیا گیا۔

پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل عاصم باجوہ کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری بیان کے مطابق جنرل راحیل شریف نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں جاری آپریشنوں کی کامیابی کا انحصار سرحد کے دونوں جانب بہتر تعاون سے ممکن ہے۔ انہوں نے انٹلی جنس معلومات کی بنیاد پر ہونے والی کاروائیوں کو بھی سراہا۔

جنرل راحیل شریف نے کہا کہ شمالی وزیرستان سے بے گھر ہونے افراد کی واپسی کا عمل اس ماہ کے وسط میں شروع کیا جارہا ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں تمام متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ وہ متاثرین شمالی وزیرستان کی باعزت واپسی کو مقررہ وقت کے دوران یقینی بنائے تاکہ انہیں کسی قسم کے مشکلات کا سامنا نہ ہوں ۔

خیال رہے کہ گزشتہ سال کراچی آئر پورٹ پر شدت پسندوں کی جانب سے بڑے حملے اور بعد میں طالبان سے مزاکرات میں ناکامی پر شمالی وزیرستان میں تمام شدت پسندوں تنظیموں کے خلاف آپریشن ضرب عضب کے نام سے کاروائیوں کا آغاز کیا گیا تھا۔

اس آپریشن کی وجہ سے شمالی وزیرستان سے تقربناً دس لاکھ کے قریب افراد نے بے گھر ہوکر بنوں اور ملک کے دیگر حصوں میں پناہ لے لی تھی۔ تاہم یہ پناہ گزین بدستور مختلف علاقوں میں مقیم ہیں۔

اس کے علاوہ کئی خاندانوں نے پڑوسی ملک افغانستان کے کچھ علاقوں کی جانب بھی ہجرت کی ۔ تاہم شمالی وزیرستان میں کاروائیوں کا سلسلہ جاری تھا کہ اس دوران فوج کی جانب سے ایک اور قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں بھی خیبر ون کے نام سے ایک نیا آپریشن شروع کیا گیا۔

فوج کا دعوی ہے کہ ان آپریشنوں کی وجہ سے دونوں قبائلی ایجنسیاں شدت پسندوں تنظیموں سے صاف کردیے گئے ہیں۔ تاہم ان کاروائیوں میں مزید شدت اس وقت دیکھنے میں آئی جب گزشتہ سال دسمبر کے ماہ میں طالبان نے پشاور کے آرمی پبلک سکول پر ایک بڑا حملہ کیا جس میں 130 کے قریب طلباء ہلاک ہوئے۔

اس حملے کے بعد سے پورے ملک میں شدت پسندوں کے خلاف کاروائیوں تیز کردی گئی ۔ حکومت کا کہنا ہے کہ حالیہ کاروائیاں بلا امتیاز تمام تنظیموں کے خلاف کی جارہی ہے اور یہ بدستور اس وقت جاری رہی گی جب تک ملک عسکری تنظیموں سے مکمل طورپر پاک نہیں ہوجاتا۔

اسی بارے میں