’دہشت نہیں پھیلی لہٰذا سزا صرف دفعہ 302 کے تحت ہوگی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption استغاثہ نے گواہان اور شواہد کی مدد سے مجرم کے خلاف قتل کا جرم اس حد تک ثابت کر دیا ہے کہ اس میں شک کی ذرا برابر بھی گنجائش باقی نہیں رہ گئی: عدالتی فیصلہ

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل کے جرم میں سزائے موت پانے والے مجرم ممتاز قادری کی اپیل پر فیصلہ سناتے ہوئے انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت سزائے موت کو کالعدم قرار دیا ہے جبکہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 302 کے تحت دی گئی سزائے موت کو برقرار رکھا ہے۔

جسٹس نور الحق قریشی کی سربراہی میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے پیر کو اس درخواست پر فیصلہ سنایا۔

عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ استغاثہ نے گواہان اور شواہد کی مدد سے مجرم کے خلاف قتل کا جرم اس حد تک ثابت کر دیا ہے کہ اس میں شک کی ذرا برابر بھی گنجائش باقی نہیں رہ گئی، اس لیے عدالت نے ان کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

تاہم عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلے میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل میں مجرم ممتاز قادری کو دی جانے والی سزائے موت کو کالعدم قرار دیا ہے۔

اس فیصلے کی وجہ بتاتے ہوئے عدالت نے لکھا ہے کہ استغاثہ کی طرف سے صرف ایک گواہ نے یہ بیان دیا کہ اس قتل کی وجہ سے عوام میں خوف اور دہشت پھیل گئی لیکن سرکاری وکیل اس الزام کو دیگر گواہوں اور شواہد کے ذریعے ثابت نہیں کر سکے، لہٰذا یہ مقدمہ دہشت گردی کے ضمن میں نہیں آتا۔

اسلام آباد کی ہائی کورٹ نے روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرنے کے بعد پچھلے مہینے مجرم کی اس درخواست پر فیصلہ محفوظ کیا تھا جس میں اس نے اپنی سزا ختم کرنے کی اپیل کی تھی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے بعد قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مقدمے میں پیچیدگیاں پیدا ہو جائیں گی جس کا فائدہ مجرم کو ہو سکتا ہے۔

تاہم فوجداری مقدمات کے ماہر وکیل سردار اسحٰق ایڈووکیٹ کہتے ہیں کہ کچھ بھی ہو، اب یہ مقدمہ دوبارہ ٹرائل کے لیے سیشن عدالت میں نہیں جا سکتا۔

’مقدمے کو دوبارہ ٹرائل کورٹ بھیجنے کے لیے الگ درخواست دائر کی جانی چاہیے تھی۔ دہشت گردی کی دفعات ختم ہونے کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ یہ مقدمہ ٹرائل کورٹ میں واپس بھیجنے کا رستہ کھل گیا ہے۔‘

اس وقت کے گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو چار جنوری سنہ 2011 کو ان کی حفاظت پر مامور پنجاب پولیس کی ایلیٹ فورس سے تعلق رکھنے والے ممتاز قادری نےگولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اس وقت کے گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو چار جنوری سنہ 2011 کو ان کی حفاظت پر مامور پنجاب پولیس کی ایلیٹ فورس سے تعلق رکھنے والے ممتاز قادری نےگولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا

انسداد دہشت گردی کی عدالت نے یکم اکتوبر 2011 کو اس مقدمے میں اعترافِ جرم کرنے والے ممتاز قادری کو موت کی سزا سنائی تھی۔

بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے مجرم کی درخواست پر سزائے موت پر عمل درآمد روک دیا تھا اور اب عدالت میں سزا کے خلاف اپیل کی سماعت ہوئی ہے۔

وفاقی حکومت نے ممتاز قادری کی سزا پر عمل درآمد کے خلاف تو ابھی تک عدالت عالیہ میں درخواست دائر نہیں کی لیکن سزا کے خلاف اپیل کی سماعت میں سرکاری وکیل پیش ہوتے رہے ہیں۔

اس مقدمے میں ممتاز قادری کی جانب سے اپیل کی پیروی کرنے والوں میں لاہور ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس خواجہ شریف اور اسی عدالت کے سابق جج میاں نذیر احمد بھی شامل ہیں۔

اسی بارے میں