رضا ربانی سینیٹ کے چیئرمین کے لیے اپوزیشن کے امیدوار

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نامزدگی کے بعد رضا ربانی کا کہنا تھا کہ ان کی کوشش ہو گی کہ وہ تمام سیاسی جماعتوں کے اعتماد پر پورا اتریں۔

پاکستان میں ایوانِ بالا کی 48 نشستوں پر انتخاب کے بعد سینیٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب کے لیے سیاسی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں۔

سینیٹ میں سب سے زیادہ نشستیں رکھنے والی جماعت پیپلز پارٹی اور اس کی اتحادی اپوزیشن جماعتوں نے پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما رضا ربانی کو سینیٹ کے چیئرمین کے لیے اپنا متفقہ امیدوار نامزد کیا ہے۔

یہ فیصلہ پیر کو اسلام آباد میں اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کے اہم اجلاس میں کیا گیا جس کی صدارت پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کی۔

اس اجلاس میں عوامی نیشنل پارٹی کی جانب سے اسفندیار ولی، مسلم لیگ ق کی جانب سے کامل علی آغا، ایم کیو ایم کے فاروق ستار اور جمیعت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان شریک ہوئے۔

اجلاس کے بعد رات گئے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اسفندیار ولی نے کہا کہ رضا ربانی کی نامزدگی تمام جماعتوں کا متفقہ فیصلہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈپٹی چیئرمین کے لیے امیدوار بلوچستان سے ہوگا اور وہاں کی جماعتوں سے مشاورت کے بعد اس عہدے کے لیے امیدوار کے نام کا اعلان منگل کو کر دیا جائے گا۔

اسفندیار ولی نے یہ بھی کہا کہ اس وقت ایوانِ بالا میں فاٹا کے جو چار سینیٹرز موجود ہیں ’ان میں سے تین سینیٹرز ہمارے ساتھ ہیں جبکہ ایک مولانا فضل الرحمان کے حامی ہیں۔‘

اس موقع پر رضا ربانی کا کہنا تھا وہ سینیٹ کی چیئرمین شپ کے لیے نامزدگی پر شکرگزار ہیں اور ان کی کوشش ہو گی کہ وہ تمام سیاسی جماعتوں کے اعتماد پر پورا اتریں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption آزاد سینیٹر یوسف بادینی کی جماعت میں شمولیت کے بعد سینیٹ میں پی پی پی کی نشستوں کی تعداد 28 ہوگئی ہے۔

ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کا یہ اتحاد صرف الیکشن کے لیے ہی نہیں ہونا چاہیے بلکہ مستقبل میں ہر قانون سازی اور اہم معاملات میں اسے برقرار رہنا چاہیے۔

خیال رہے کہ اس وقت سینیٹ میں پیپلز پارٹی سب سے بڑی جماعت ہے اور پیر کو بلوچستان سے منتخب ہونے والے آزاد سینیٹر یوسف بادینی کی جماعت میں شمولیت کے بعد سینیٹ میں پی پی پی کی نشستوں کی تعداد 28 ہوگئی ہے۔

اس کے علاوہ اس کی اتحادی جماعت ایم کیو ایم 8 نشستوں کے ساتھ ایوان کی تیسری بڑی جماعت ہے جبکہ دیگر دو اتحادیوں اے این پی اور مسلم لیگ ق کے پاس سینیٹ میں بالترتیب سات اور چار نشستیں ہیں۔

ادھر وزیراعظم نوازشریف نے منگل کو سیاسی قائدین کو ظہرانے پر ملاقات کے لیے مدعو کیا ہے۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق اس ملاقات کے دوران سینیٹ کے چیئرمین اور نائب چیئرمین کے انتخابات سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

جمیعت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے فی الحال اپوزیشن کے امیدوار کی حمایت کا اعلان نہیں کیا ہے اور مقامی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ وہ نواز شریف سے ملاقات کے بعد ہی اپنی جماعت کے حتمی لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔

خیال رہے کہ حال ہی میں بی بی سی اردو سے بات چیت میں مسلم لیگ نواز کے رہنما خاصے پرامید دکھائی دیے تھے کہ نمبر گیم میں بظاہر پیچھے رہ جانے کے باوجود ان کی جماعت ملک کے دوسرے اعلیٰ ترین آئینی عہدے کو حاصل کر لے گی۔

مسلم لیگ نواز کے رہنما، نو منتخب سینیٹر اور وفاقی کابینہ کے رکن مشاہد اللہ خان نے کہا تھا کہ سینیٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کا انتخاب ایک نیا مرحلہ ہے اور ’اس نئے مرحلے پر نئے اتحاد بنیں گے۔ نئے جوڑ توڑ ہوں گے اور نئے سرے سے مذاکرات ہوں گے۔‘

اسی بارے میں