نواز شریف نے بھی رضا ربانی کی حمایت کا اعلان کر دیا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption رضا ربانی اپوزیشن جماعت پیپلز پارٹی سے ہے اور انھیں سینٹ کی چار جماعتوں کے بعد اب حکومتی جماعت مسلم لیگ ن کی حمایت بھی مل گئی ہے

پاکستان کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے سینیٹ کے چیئرمین کے لیے اپوزیشن جماعتوں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ق، ایم کیو ایم اور اے این پی کے حمایت یافتہ امیدوار سینیٹر رضا ربانی کی حمایت کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

منگل کو وزیراعظم ہاؤس میں پارلیمانی جماعتوں کے اعزاز میں دیے گئے ظہرانے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف نے بتایا کہ ان کی جماعت مسلم لیگ ن نہ تو سینیٹ کے چئیرمین اور نہ ہی نائب چئیرمین کے لیے اپنا امیدوار نامزد کرنا چاہتی تھی۔

انھوں نے کہا کہ ’چونکہ کل فیصلہ ہو چکا ہے اس لیے بڑی خوشی کے ساتھ ہم اس فیصلے کی حمایت کرتے ہیں، یہ بالکل ٹھیک فیصلہ ہے۔‘

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ رضا ربانی کو چیئرمین سینٹ کی ذمہ داری ملی تو اسی خوشی سے مکمل طور پر تسلیم کیا جائے گا۔

’میں سمجھتا ہوں وہ ایک بڑے اچھے آدمی ہیں، پارلیمینٹیرین ہیں اور ان کے کندھوں پر اگر یہ ذمہ داری سونپی جائے گی تو ہم سب بہت خوشی کے ساتھ اسے قبول کریں گے۔‘

وزیراعظم کی جانب سے حمایت کے اعلان کے بعد سینیٹر رضا ربانی نے میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی کوشش ہوگی کہ وہ سب کو ساتھ لے کر چلیں اور جمہوری اداروں کو مضبوط کریں۔

میری کوشش یہ ہوگی کہ جمہوری اداروں کو مضبوط کروں، جمہوری قدروں کو آگے لے کر چلوں اور پارلیمان کے استحکام اور بالادستی کا دفاع بہت شدومد سے کروں۔‘

انھوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ نائب چیئرمین کا انتخاب صوبہ بلوچستان سے ہونا چاہیے۔

’ڈپٹی چیئرمین کے لیے میری رائے ہے کہ وہ چھوٹے صوبے سے ہونا چاہیے بالخصوص بلوچستان سے ہونا چاہیے اب یہ سیاسی جماعتوں پر منحصر ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ PID
Image caption وزیراعظم کی جانب سے پارلیمانی جماعتوں کو دیے جانے والے ظہرانے میں آصف علی زرداری شریک نہیں ہوئے

تاہم نواز شریف نےیہ شکوہ ضرور کیا کہ پیر کی شب پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے جب مسلم لیگ ق ایم کیو ایم، اے این پی اور جمعیت علمائے اسلام ف کی قیادت کو مشاورت کے لیے عشائیے پر بلایا تو حکمراں جماعت کو نظرانداز کر دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ چاہتے تھے کہ سب مل کر سینیٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کا انتخاب کرتے اور اس سلسلے میں آصف علی زرداری سے رابطہ بھی ہوا تھا۔

’میں نے انھیں پیغام بھیجا کہ ہم چاہتے ہیں کہ افہام و تفہیم کے ساتھ اس کا فیصلہ کریں اور آپس میں بیٹھ کر تبادلہ خیال کریں، باقی (جماعتیں) بھی بیٹھیں۔‘

وزیراعظم نواز شریف نے بتایا کہ انھوں نے آج ظہرانے کی دعوت تمام پارلیمانی جماعتوں کو دی تھی اور انھیں معلوم نہیں تھے کہ رات کو کھانے کے بعد ہی فیصلہ ہو جائے گا۔

یاد رہے کہ پیر کو اسلام آباد میں اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کا اہم اجلاس پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی زیرِ صدارت منعقد ہوا۔ جس کے بعد رات گئے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عوامی نیشنل پارٹی اے این پی کے سربراہ اسفندیار ولی نے اعلان کیا کہ رضا ربانی کی نامزدگی تمام جماعتوں کا متفقہ فیصلہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈپٹی چیئرمین کے لیے امیدوار بلوچستان سے ہو گا اور وہاں کی جماعتوں سے مشاورت کے بعد اس عہدے کے لیے امیدوار کے نام کا اعلان منگل کو (یعنی آج) کر دیا جائے گا۔

اسفندیار ولی نے یہ بھی کہا کہ اس وقت ایوانِ بالا میں فاٹا کے جو چار سینیٹر موجود ہیں’ان میں سے تین سینیٹر ہمارے ساتھ ہیں جبکہ ایک مولانا فضل الرحمان کے حامی ہیں۔‘

سینیٹر رضا ربانی گذشتہ 47 سال سے پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ وابستہ ہیں۔ وہ سنہ 2012 میں چھٹی مرتبہ سینٹ کی نشست کے لیے کامیاب ہوئے تھے۔

پارلیمانی خدمات کے اعتراف میں انھیں ملک کے سب سے بڑے سول اعزاز ہلالِ امتیاز سے نوازا گیا۔

سینیٹر رضا ربانی اس وقت سینٹ کی قومی سلامتی سے متعلق کمیٹی کے چیئرمین کے عہدے پر فائز ہیں۔

1973 کا آئین بحال کرنے کے لیے 18ویں ترمیم کا ڈرافٹ تیار کرنے والی پارلیمانی کمیٹی کی سربراہی بھی رضاربانی نے کی تھی۔

یاد رہے کہ پانچ مارچ کو منعقد ہونے والے سینٹ الیکشن میں 52 میں سے 48 نشتوں پر انتخاب ممکن ہو سکا تھا جبکہ صدارتی آرڈیننس کے اجرا کے بعد فاٹا اراکین نے الیکشن کا بائیکاٹ کیا تھا۔

اسی بارے میں