سربراہ کے تبادلے پر پولیس اہلکاروں کا احتجاج

Image caption اہلکاروں نے حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور وہ اپنی ٹوپیاں اور پیٹیاں اتار کر لہراتے رہے۔

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں جمعرات کو پولیس کے سینکڑوں اہلکار اپنے سربراہ کے تبادلے کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے۔

مظفر آباد کے ایس ایس پی عرفان مسعود کشفی کو مبینہ طور پر شراب نوشی کے الزام میں گرفتار اہم سرکاری افسر کو رہا کرنے سے انکار پر تبدیل کر دیا گیا تھا۔

جمعرات کو ان کے تبادلے کا نوٹیفیکیشن جاری ہوتے ہی پولیس اہلکاروں کی بڑی تعداد ضلعی پولیس دفتر کے باہر جمع ہوگئی۔

سینکڑوں مشتعل اہلکاروں نے حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور وہ اپنی ٹوپیاں اور پیٹیاں اتار کر لہراتے رہے۔

صحافی اورنگزیب جرال کے مطابق اہلکاروں نے ٹائروں کو آگ لگا کر شہر کی مرکزی شاہراہ سمیت تمام رابطہ سڑکیں بند کر دیں جس کی وجہ سے شہر بھر میں آمدورفت کا نظام درہم برہم ہوگیا۔

پولیس فورس کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنے کے لیے مختلف سیاسی، مذہبی اور تاجر تنظیموں نے بھی جلوس نکالے۔

پولیس اہلکاروں نے چار گھنٹے تک جاری رہنے والا اپنا احتجاج اس وقت ختم کیا جب حکومت نے ضلعی پولیس سربراہ کے تبادلے کا نوٹیفکیشن منسوخ کر دیا جس کا باقاعدہ اعلان ڈپٹی کمشنر مظفر آباد مسعودالرحمان نے پولیس اہلکاروں سے خطاب میں کیا۔

ادھر منگل کو شراب نوشی کے الزام میں گرفتار ہونے والے وزیراعظم کے پریس اینڈ پبلیکیشن افسر نے اپنے عہدے سے استعفی دے دیا ہے تاہم وزیراعظم چوہدری عبدالمجید کی جانب سے تاحال اسے منظور یا مسترد نہیں کیا گیا۔