رضا ربانی سینیٹ کے چیئرمین، عبدالغفور حیدری ان کے نائب منتخب

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption دستور کے مطابق ہر تین سال بعد سینٹ کی کل 104 میں سے نصف نشستیں خالی ہو جاتی ہیں

پاکستان کے ایوانِ بالا نے پیپلز پارٹی کے رہنما رضا ربانی کو اپنا نیا چیئرمین اور عبدالغفور حیدری کو ڈپٹی چیئرمین منتخب کیا ہے۔

رضا ربانی کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے جبکہ مولانا عبدالغفور حیدری بلوچستان سے سینیٹر منتخب ہوئے تھے اور اُن کا تعلق جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمان گروپ سے ہے۔

رضا ربانی کا انتخاب تو بلامقابلہ ہوا لیکن ڈپٹی چیئرمین شپ کے لیے عبدالغفور حیدری اور شبلی فراز مدِمقابل آئے۔

سینیٹ کی چیئرمین شپ کے لیے حکمران جماعت مسلم لیگ ن نے سینیٹ میں اکثریتی جماعت پیپلز پارٹی کے امیدوار رضا ربانی کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔

ڈپٹی چیئرمین کے عہدے لیے کل چار امیدواروں نے اپنے کاغذات نامزدگی جمع کروائے تاہم بعد میں جے یو آئی کے عبدالغفور حیدری اور تحریکِ انصاف کے شبلی فراز ہی میدان میں رہ گئے۔

سینیٹ میں ہونے والی رائے شماری میں عبدالغفور حیدری کو 74 ووٹ ملے جبکہ شبلی فراز 17 ووٹ لینے میں کامیاب رہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ پہلی بار سینیٹ کا حصہ بننے والی تحریکِ انصاف کے ایوان میں سات ارکان ہیں لیکن اس کے امیدوار دیگر جماعتوں کے دس ارکان کے ووٹ لینے میں بھی کامیاب ہوئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما رضا ربانی بلامقابلہ سینیٹ کے چیئرمین منتخب ہوئے ہیں

جمعرات کو سینیٹ کے نئے پارلیمانی سال کے پہلا اجلاس وفاقی وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار کی صدارت میں شروع ہوا جس میں سینیٹ کے انتخابات میں منتخب ہونے والے سینیٹروں نے حلف اٹھایا۔

اجلاس میں رضا ربانی نے متفقہ طور پر چیئرمین منتخب کرنے پر ایوان کا شکریہ ادا کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’میں چیئرمین کی حیثیت سے پارلیمان کے استحکام اور آئین کی بالادستی کے لیے کام کروں گا۔‘

رضا ربانی نے ایوان کو یقین دلایا کہ وہ تمام اراکین کو یکساں مواقع فراہم کریں گے۔ اس موقع سینیٹروں نے جمہوریت اور پارلیمان کے استحکام کے لیے رضا ربانی کی خدمات کو سراہا۔

وزیراعظم نواز شریف نے رضا ربانی کو بلامقابلہ سینیٹ کا چیئرمین منتخب ہونے پر مبارکباد دی۔ وزیراعظم نے مسلم لیگ نواز کے سینیٹر راجہ ظفر الحق کو سینیٹ میں قائدہ ایوان بنانے کی منظوری بھی دی ہے۔

یاد رہے کہ پانچ مارچ کو سینیٹ کی 52 نشستوں میں سے 48 پر انتخابات ہوئے تھے جبکہ انتخابی طریقۂ کار پر ابہام کی وجہ سے فاٹا سے سینیٹ کی چار نشستیں اب بھی خالی ہیں۔

چار مارچ کی شب فاٹا کے لیے سینیٹ کے انتخاب کے طریقۂ کار میں تبدیلی کی گئی تھی اور اس سلسلے میں وزیراعظم کی منظوری سے ایک صدارتی حکم نامہ جاری کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں