’شفقت کی پھانسی کا سن کر تو دل بیٹھ جاتا ہے‘

Image caption پھانسی کا سن کر تو میرا دل بیٹھ جاتا ہے ، کیا اس ملک میں غریبوں کے لیے کہیں انصاف نہیں: مکھنی بیگم

کراچی میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کی جانب سے 14 سال کی عمر میں بچے کے اغوا اور قتل کے مجرم شفقت حسین کے ڈیتھ وارنٹ کے دوبارہ اجرا کے بعد سینکڑوں میل دور مظفر آباد میں موجود ان کے والدین نے ایک بار پھر پاکستان کے حکامِ بالا سے پھانسی روکنے کی اپیل کی ہے۔

وادی نیلم کے انتہائی پسماندہ علاقے سے تعلق رکھنے والے شفقت کے فالج زدہ باپ اور بزرگ والدہ اس وقت پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں کرایے کے ایک شیلٹر میں عارضی طور پر مقیم ہیں۔

شققت کی بوڑھی ماں مکھنی بیگم کا کہنا ہے کہ ان کا بیٹا بے قصور ہے اور اس مقدمے میں پہلے دن سے انصاف نہیں کیا گیا۔

وہ کہتی ہیں: ’وہ تو سکول میں ہوتے ہوئے بھی کسی سے نہیں لڑا۔ اسے پھنسایا گیا ہے۔‘

ان کہنا تھا کہ ’پھانسی کا سن کر تو میرا دل بیٹھ جاتا ہے، کیا اس ملک میں غریبوں کے لیے کہیں انصاف نہیں، اتنے دور سے روزی کی تلاش میں جانے والے پر یہ ظلم، آخر ہم کہاں جائیں۔‘

مکھنی بیگم نے صدرِ پاکستان، چیف جسٹس آف پاکستان اور وزیر اعظم سے پھانسی روکنے کی اپیل کی۔

شفقت حسین کے بھائی منظورحسین کا کہنا ہے کہ ان کے خاندان کا پاکستان کے نظام عدل پر سے اعتماد اٹھ گیا ہے۔

Image caption شفقت کے اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کے نظام عدل پر سے ان کا اعتماد اٹھ گیا ہے۔

مظفرآباد سے صحافی خواجہ رئیس کے مطابق انھوں نے کہا کہ ’وزیر داخلہ کی جانب سے شفقت کے مقدمے کو ازسر نو سننے اور اس کی چھان بین کا اعلان کیا گیا تھا جس سے ہمیں امید ہوئی تھی کہ بھائی کے ساتھ انصاف ہو گا لیکن اس اعلان پر عمل درآمد نہیں ہوا، چھان بین کے لیے کسی نوعیت کا قدم نہیں اٹھایا گیا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’شفقت کا ڈی این اے ٹیسٹ لینے کا اعلان بھی کیا گیا تھا لیکن سب کچھ صرف اعلان ہی ثابت ہوا۔‘

یاد رہے کہ بدھ کے روز کراچی میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے 19 مارچ کو شفقت حسین کو پھانسی دینے کے لیے بلیک وارنٹ جاری کر دیے ہیں۔

شفقت حسین کا نام پھانسی پانے والوں کی اس ابتدائی فہرست میں شامل تھا جسے وزیرِ اعظم پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کے مقدمات میں سزائے موت پانے والے افراد کی سزا پر عمل درآمد کے اعلان کے بعد مرتب کیا گیا تھا۔

ابتدائی طور پر انھیں 14 جنوری کو سزائے موت دی جانی تھی جس پر عمل درآمد کے خلاف سماجی تنظیم جسٹس پروجیکٹ پاکستان کی جانب سے درخواست دائر کی گئی تھی اور پھر حکومت پاکستان نے ان کی پھانسی موخر کر دی تھی۔

اسی بارے میں