پاک افغان سرحدی علاقے سے طالبان کا اہم کمانڈر گرفتار

اس علاقے میں شدت پسند متعدد بار سکیورٹی اہلکاروں پر حملے کر چکے ہیں

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشن

اس علاقے میں شدت پسند متعدد بار سکیورٹی اہلکاروں پر حملے کر چکے ہیں

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں پولیس حکام کے مطابق ضلع اپر دیر میں پاک افغان سرحد کے قریب سے غیرقانونی تحریک طالبان پاکستان کےاہم کمانڈر عبدالرحیم عرف رئیس کو گرفتار کیا ہے۔

صحافی انور شاہ کے مطابق پولیس کے مطابق طالبان کمانڈر کو سوہنی درہ کے علاقے سےگرفتار کر کے تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیاگیا ہے۔

اپر دیر کے ضلعی پولیس افسر اسرار الدین بادشاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ گرفتار ہونے والے طالبان کمانڈر عبدالرحیم عرف رئیس سنہ 2011 میں شلتالو درہ میں پولیس چوکی پر ہونے والے حملے اور 27 پولیس اور لیویز اہلکاروں کے قتل میں ملوث تھے۔

اس کے علاوہ وہ پولیس، قومی لشکر کے رضاکاروں پر حملوں اور بم دھماکوں میں بھی پولیس کو مطلوب تھے۔

خیال رہے کہ جون 2011 میں پاک افغان سرحد کے قریبی علاقے شلتالو درہ میں افغانستان سے پاکستانی علاقے میں دراندازی کرنے والے 300 کے قریب عسکریت پسندوں نے پولیس چوکی پر حملہ کر کے پولیس اور لیویز کے 27 اہلکاروں کو یرغمال بنانے کے بعد انھیں گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

ضلعی پولیس افسر کے مطابق پاک افغان سرحد پر فوج بھی موجود ہے اور ان علاقوں میں پولیس کی طرف سے وقتاً فوقتاً سرچ آپریشنز بھی کیے جاتے ہیں۔

اس علاقے میں ماضی میں سرحد پار سے شدت پسندوں نے کئی حملے کر کے امن لشکر کے کئی رضاکاروں کو ہلاک کرنے کے علاوہ پولیس چوکیوں پر بھی حملے کیے ہیں، جن میں متعدد پولیس اہلکار کو ہلاک اور متعدد تعلیمی اداروں کو نذ ر آتش کیا جا چکا ہے۔