ذکی الرحمٰن لکھوی کی نظر بندی کالعدم: اسلام آباد ہائی کورٹ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ذکی الرحمٰن لکھوی کی نظربندی میں تیسری مرتبہ توسیع کی گئی تھی

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ممبئی حملوں کی سازش تیار کرنے کے مقدمے میں گرفتار ذکی الرحمنٰ لکھوی کی نظر بندی ختم کر دی ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے ڈپٹی رجسٹرار نے بی بی سی کو تصدیق کی کہ جمعے کو ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت کو حکم دیا ہے کہ اگر ذکی الرحمٰن لکھوی پر کوئی اور مقدمہ نہیں تو انھیں رہا کر دیا جائے۔

یاد رہے کہ 13 فروری کو اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے ممبئی حملوں کی سازش تیار کرنے کے مقدمے کے مرکزی ملزم ذکی الرحمٰن لکھوی کی نظر بندی میں ایک ماہ کی مزید توسیع کر دی تھی۔

ذکی الرحمٰن لکھوی ان دنوں اڈیالہ جیل میں نظر بند ہیں جبکہ ان کی ممبئی حملہ سازش تیار کرنے اور ایک شخص کو اغوا کرنے کے مقدمات میں ضمانتیں ہو چکی ہیں۔ تاہم حکومت اب تک انھیں مسلسل تین بار ایک ایک ماہ کے لیے نظر بند کر چکی ہے۔

ذکی الرحمٰن لکھوی کے وکیل رضوان عباسی نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں تاحال عدالتی حکم نامے کی کاپی موصول نہیں ہوئی۔

وفاقی حکومت کا موقف ہے کہ ذکی الرحمان لکھوی کو امن و امان کے خدشات کے سبب نظر بند رکھا گیا ہے۔ اسی کے خلاف ملزم کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی گئی تھی۔

ضلعی انتظامیہ نے یہ احکامات اسلام آباد پولیس کی جانب سے لکھے جانے والے خط کی روشنی میں جاری کیے تھے۔

اس خط میں کہا گیا تھا کہ خفیہ اداروں کی اطلاعات کے مطابق ملزم جیل سے رہا ہونے کے بعد غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث ہو سکتا ہے اس لیے اس کی نظر بندی میں توسیع کی جائے۔

ممبئی حملوں کی سازش تیار کرنے کے مقدمے میں گرفتار ہونے والے دیگر ملزمان بھی اڈیالہ جیل میں قید ہیں اور ان پر فرد جرم بھی عائد ہو چکی ہے۔

وفاقی حکومت نے انسدادِ دہشت گردی کے عدالت کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے ذکی الرحمٰن لکھوی کی ممبئی حملوں کی سازش تیار کرنے کے مقدمے میں ضمانت منسوخ کرنے کی درخواست بھی دائر کر رکھی ہے جس پر عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کیے ہیں۔

اسی بارے میں