لاہور: چرچ کے گیٹ پر دو خودکش دھماکے، کم از کم 15 ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حملہ آوروں نے چرچ کے مرکزی گیٹ سے داخل ہونے کی کوشش کی۔ سکیورٹی پر مامور گارڈز نے جب ان کو روکا ہے تو انھوں نے فائرنگ شروع کر دی

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر لاہور میں حکام کا کہنا ہے کہ یوحنا آباد میں چرچ کے گیٹ پر دو خودکش دھماکوں میں کم از کم 15 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے ہیں۔

لاہور جنرل ہسپتال کے شعبہ ایمرجنسی نے بی بی سی کو بتایا کہ ہلاک شدگان کی تعداد 15 ہوگئی ہے۔

اس سے قبل ایم ایس سعید صوبن نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ 78 افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں سے 40 افراد شدید زخمی ہیں۔انھوں نے تصدیق کی کہ ہلاک ہونے والوں میں ایک خاتون، ایک بچہ اور دو پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔

مسیحی برادری کی عبادت گاہیں نشانے پر

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق ڈی آئی جی آپریشنز نے تصدیق کی ہے کہ دونوں دھماکے خودکش تھے۔

کیتھولک چرچ کے پادری نے نجی ٹی وی چینلز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حملہ آوروں نے چرچ کے مرکزی گیٹ سے داخل ہونے کی کوشش کی۔ سکیورٹی پر مامور گارڈز نے جب ان کو روکا ہے تو انھوں نے فائرنگ شروع کر دی۔

’ہم مرکزی راستہ بند رکھتے ہیں اور لوگ سائیڈ کے راستے پر واک تھرو گیٹ سے گزر کر چرچ میں آتے ہیں۔ جب حملہ آور داخل نہ ہو سکے تو انھوں نے میرے مکان کے گیٹ کے سامنے اپنے آپ کو اڑا دیا۔‘

جائے وقوع پر موجود اے ایس آئی غلام رسول نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ دھماکہ یوحنا آباد میں واقع کیتھولک چرچ کے گیٹ پر ہوا ہے۔

اے ایس آئی غلام رسول نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ جس وقت دھماکہ ہوا تو وہ بھاگ کر سامنے واقع دکان میں داخل ہوئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption لاہور میں چرچ پر حملے کے خلاف فیصل آباد میں بھی عیسائیوں نے مظاہرہ کیا

’مشتعل لوگوں نے دکان کا شٹر بند کردیا ہے۔ میں خود بھی زخمی ہوں اور میرے دو ساتھی بھی زخمی ہیں اور ہم دودھ اور دہی کی دکان کے اندر بند ہیں۔‘

مشتعل مظاہرین نے فیروز پور روڈ کو بلاک کر رکھا ہے تاہم دھماکوں کے بعد پولیس احتجاج کے مقام پر دکھائی نہیں دے رہے۔

مقامی ٹی وی چینلز پر دکھائے جانے والے مناظر میں موجود مظاہرین نے ہاتھوں میں ڈنڈے اٹھا رکھے ہیں اور وہ میٹرو بس سٹیشن میں توڑ پھوڑ کر رہے ہیں۔

مظاہرین کی جانب سے سرکاری املاک کے علاوہ وہاں موجود پرائیویٹ گاڑیوں کے شیشے توڑے گئے اور دکانوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

رابطہ کرنے پر مقامی تھانے نشتر کالونی میں ڈیوٹی پر موجود اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ لاعلم ہیں کہ باہر کیا ہورہا ہے اور باہر موجود ساتھی بھی ان سے رابطے میں نہیں ہیں۔

دوسری جانب یوحنا آباد کے قریب واقع لاہور جنرل ہسپتال میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کے اہل خانہ کی ایک بڑی تعداد موجود ہے جو ان دھماکوں پر احتجاج رہی ہے۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ مشتعل افراد کی جانب سے کیتھولک چرچ کے باہر ڈیوٹی پر موجود اہلکاروں کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔