مختلف ملکوں کے ساتھ سزایافتہ قیدیوں کے تبادلے پر روک: وزارت داخلہ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption جن ممالک کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ موجود ہے ان میں برطانیہ، متحدہ عرب امارات، سری لنکا، تھائی لینڈ اور سپین سمیت کئی ملک شامل ہیں

وفاقی وزارت داخلہ نے اتوار کی شب ایک اعلامیے میں کہا ہے کہ پاکستان نے مختلف ملکوں کے ساتھ سزایافتہ قیدیوں کے تبادلے پر عملدرآمد کو روک دیا ہے۔

وزارتِ داخلہ کے اعلان کے مطابق ’وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان نے داخلہ اور خارجہ امور کی وزارتوں کے ساتھ ساتھ وفاقی تفتیشی ایجنسی ایف آئی اے کو اس طرح کے کسی معاہدے کے تحت کسی معاملے میں پیش رفت سے نئی شفاف پالیسی کی تشکیل تک روک دیا ہے۔‘

جن ممالک کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ موجود ہے ان میں برطانیہ، متحدہ عرب امارات، سری لنکا، تھائی لینڈ اور سپین سمیت کئی ملک شامل ہیں۔

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ فیصلہ ان رپورٹوں کے بعد کیا گیا ہے جن کے مطابق ایسے سزایافتہ قیدیوں کی بڑی تعداد، جنہیں پاکستان کی جیلوں میں کچھ دیگر کئی ملکوں سے لایا گیا تھا، انھوں نے سرکاری اہلکاروں کی مدد سے پاکستان میں اپنی سزا مکمل کیے بغیر آزاد کر دیا گیا جو اس معاہدے کے تحت انہیں لازمی طور پر بھگتنی تھی۔

وزارت داخلہ کے اعلان میں کہا گیا ہے ’وزارتِ داخلہ کی ہدایت پر کی گئی تحقیقات سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ ایسے پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد، جنہیں سنگین جرائم کا مرتکب قرار دیا گیا تھا، اور تحویلِ ملزمان کے معاہدے کے تحت انہیں پاکستان لایا گیا تھا، انہوں نے وزارتِ داخلہ اور صوبائی حکومتوں کے اہلکاروں کی ملی بھگت سے غیرقانونی طور پر رہا کردیا گیا ہے۔‘

وزیرِ داخلہ نے ایسے معاملات کی انکوائری کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کو ایک ہفتے کے اندر اندر مکمل کیا جائے اور اس معاملے میں ذمہ دار اہلکاروں کو گرفتار کیا جائے۔

اسی بارے میں