’دھماکوں کے ردعمل میں تشدد قانون و جمہوریت کی تضحیک‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption پانچ ہزار اہلکاروں کو یوحنا آباد اور اطراف میں سکیورٹی انتظامات کی ذمہ داری سونپی گئی ہے

پاکستان کے وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ لاہور کے علاقے یوحنا آباد میں دہشت گردی کا واقعہ دلخراش تھا لیکن اس کے ردعمل میں جو کچھ ہوا، اسے بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

اس معاملے پر منگل کو قومی اسمبلی میں بیان دیتے ہوئے وزیرِ داخلہ نے کہا کہ ’گرجا گھر پر حملے بدترین دہشت گردی تھی لیکن دو انسانوں کو جس طریقے سے جلایا گیا یہ بھی بدترین دہشت گردی ہے۔‘

یوحنا آباد میں اتوار کو گرجا گھروں پر دو خودکش حملوں میں 17 افراد مارے گئے تھے اور ان کے بعد مسیحی برادری کے پرتشدد احتجاج میں دو افراد کو حملہ آوروں کے ساتھی ہونے کے شبے میں زندہ جلا دیا گیا تھا۔

چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ خودکش دھماکوں میں بھی جو 17 افراد ہلاک ہوئے ان میں سے 12 عیسائی اور پانچ مسلمان تھے۔

چوہدری نثار نے کہا کہ ماضی میں اقلیتیں دہشت گردی کے بڑے واقعات کا نشانہ بنیں اور اس وقت ان کا صبر اور ضبط مثالی تھا، تاہم لاہور میں دھماکوں کے ردعمل میں جو ہوا اسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ لاہور میں ہونے والا ردعمل ملک، قانون اور جمہوریت کے لیے باعثِ تضحیک اور اس بات کی اجازت نہیں دی جا سکتی کہ ’ایک طرف دہشت گرد ہمارے گھروں کو آگ لگائیں اور پھر ہم نکل پڑیں اور خود یہ کام کریں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption یوحنا آباد میں دو گرجا گھروں رومن کیتھولک چرچ اور کرائسٹ چرچ کو مبینہ خود کش حملوں کا نشانہ بنایا گیا تھا

چوہدری نثار نے کہا کہ محمد نعیم نامی جس شخص کو زندہ جلایا گیا وہ ایک عام اور شہریف شہری تھا اور ’جنھوں نے لوگوں کو زندہ جلایا ان کے خِلاف سخت سے سخت کارروائی ہوگی اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے والے ایک ایک شخص کو گرفتار کیا جائے گا۔‘

خیال رہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے بھی محمدنعیم کو ہلاک کرنے والے افراد کی فوری گرفتاری کا حکم دیا ہے۔

پی ٹی وی کے مطابق شہباز شریف کا کہنا تھا کہ احتجاج کرنا مظاہرین کا حق تھا لیکن شک کی بنیاد پر انھیں کسی بھی شہری سے ایسا انسانیت سوز سلوک کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

سرکاری ٹی وی پر یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پولیس نے اس سلسلے میں 150 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے جن میں سے 50 نامزد ملزم اور بقیہ سو نامعلوم افراد ہیں۔

اس احتجاج میں زندہ جلائے جانے والے محمد نعیم کے قتل کا مقدمہ بھی درج کر لیا گیا ہے۔ پی ٹی وی کے مطابق نعیم کے بھائی محمد سلیم کی مدعیت میں یہ مقدمہ لاہور کے تھانہ نشتر ٹاؤن میں درج کیا گیا ہے۔

ہلاک شدگان کی آخری رسومات

ادھر گرجا گھروں کے باہر دھماکوں میں ہلاک ہونے والے دس افراد کی آخری رسومات بھی منگل کو یوحنا آباد میں ہی ادا کر دی گئی ہیں۔

نامہ نگار شمائلہ جعفری کے مطابق آخری رسومات لاہور میں عیسائیوں کی اس بڑی بستی میں واقع سینٹ جونز سکول میں ادا کی گئیں جن میں ہزاروں افراد شریک ہوئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption یوحنا آباد کا علاقہ خودکش حملوں کے بعد مسیحی برادری کے پرتشدد مظاہروں کا مرکز رہا تھا

ان کا کہنا تھا کہ اس موقع پر سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے اور علاقے کو جانے والی مرکزی سڑک ایک کلومیٹر پہلے سے ہی بند کر دی گئی تھی۔

نامہ نگار عدیل اکرم کے مطابق مذکورہ علاقے کے چاروں جانب رینجرز اور پولیس کے دستے تعینات تھے اور ذیلی سڑکوں کو بھی خاردار تاریں لگا کر بند کیا گیا تھا۔

یوحنا آباد کا علاقہ خودکش حملوں کے بعد مسیحی برادری کے پرتشدد مظاہروں کا مرکز رہا تھا اور وہاں حالات پر قابو پانے کے لیے رینجرز کے دستے تعینات کرنا پڑے تھے۔

دو دن تک جاری رہنے والے مظاہروں کے بعد منگل کو حکومت پنجاب اور مسیحی برادری کے درمیان مذاکرات ہوئے تھے جن میں یوحنا آباد میں پیش آنے والے واقعات کی تحقیقات کے لیے کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

ان مذاکرات کی کامیابی کے بعد علاقے میں حالات میں بہتری آئی ہے۔

اسی بارے میں