شمالی وزیرستان کے متاثرین کی رجسٹریشن بدھ سے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شمالی وزیرستان کے متاثرین کی بڑی تعداد ضلع بنوں میں کیمپوں میں مقیم ہے

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان ایجنسی کے متاثرین کی واپسی کے لیے حکام کے مطابق رجسٹریشن کا عمل بدھ سے خیبر پختونخوا کے شہر بنوں کے کیمپ آفس میں شروع ہوگا جبکہ ان کی واپسی کے لیے 31 مارچ کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔

پولیٹیکل انتظامیہ کے حکام نے کہا ہے کہ پہلے مرحلے میں تین دیہاتوں کے متاثرین کی واپسی ہوگی جن میں شپین وام کے علاقے شامیری، قبیلہ میرعلی سپین وام اور قبیلہ ششی خیل گوبلی شامل ہیں۔

انتظامیہ کے مطابق دیگر علاقوں کے متاثرین کی واپسی کا اعلان وقتاً فوقتاً کیا جائے گا اور اس کے لیے تیاریاں آخری مراحل میں ہیں۔

مذکورہ تین دیہات کے لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ بدھ کو بنوں میں واقع کیمپ آفس میں رجسٹریشن کے لیے پہنچ جائیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ متاثرین کے ہمراہ ان علاقوںں کے قبائلی رہنماؤں سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ کیمپ آفس میں پولیٹکل انتظامیہ سے رجوع کریں۔

شمالی وزیرستان کے قبائلی رہنماؤں نے پیر کو پشاور میں فاٹا سیکریٹیریٹ کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا تھا اور فاٹا حکام سے کہا تھا کہ متاثرین کی واپسی کو یقینی بنانے کے علاوہ واپسی کے سلسلے میں ان کے تحفظات دور کیے جائیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption تین دیہات کے لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ بدھ کو بنوں میں واقع کیمپ آفس میں رجسٹریشن کے لیے پہنچ جائیں۔

اس سے قبل قبائلی رہنماؤں نے چند روز پہلے بنوں میں ایک گرینڈ جرگے میں کہا تھا کہ کہ اگر متاثرین شمالی وزیرستان کی واپسی کو جلد یقینی نہ بنایا گیا تو وہ خود وزیرستان کی جانب روانہ ہو جائیں گے۔

شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن ضرب عضب گزشتہ سال جون میں شروع کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں لاکھوں افراد بے گھر ہو کر مختلف علاقوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے تھے۔

ان متاثرین کی بڑی تعداد ضلع بنوں میں کیمپوں میں مقیم ہے۔ ان متاثرین کے لیے واپسی کے اعلانات پہلے بھی کیے گئے تھے لیکن ان پر عمل نہیں ہو سکا تھا۔

اس سے پہلے جنوبی وزیرستان کے متاثرین کی واپسی پیر سے شروع ہو چکی ہے اور گزشتہ روز سروکئی کے تین دیہاتوں کی جانب لوگ واپس گئے ہیں۔

اسی بارے میں