مانسہرہ میں پولیو ٹیم پر حملہ، دو ہیلتھ ورکرز سمیت تین ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع مانسہرہ میں انسداد پولیو ٹیم پر نامعلوم افراد کے حملے میں دو خواتین سمیت تین افراد ہلاک ہوگئے۔

بی بی سی کے نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق انسداد پولیو ٹیم پر حملے کا واقعہ مانسہرہ شہر سے مغرب کی جانب 40 کلومیٹر کی فاصلے پر پہاڑی علاقے میں واقع گاؤں ڈنہ میں پیش آیا۔

ہلاک ہونے والوں میں دو خاتون ہیلتھ ورکرز اور ان کی حفاظت پر مامور پولیس کانسٹیبل شامل ہیں۔

حملے کے بعد ہلاک ہونے والے افراد کی میتوں کو مقامی ہسپتال منتقل کر دیا گیا اور پولیس کی نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی۔

انسداد پولیو ٹیم پر حملہ اس وقت پیش آیا ہے جب ضلع میں تین روزہ انسداد پولیو مہم جاری ہے۔

ضلع مانسہرہ میں انسداد پولیو ٹیم کو نشانہ بنانے کا یہ پہلا واقعہ ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان میں گذشتہ تین سالوں میں انسداد پولیو مہم کی ٹیموں اور انھیں تحفظ فراہم کرنے والی ٹیموں پر متعدد حملے ہو چکے ہیں۔

قبائلی علاقہ جات اور صوبہ خیبر پختونخوا میں بیشتر اضلاع اس حوالے سے انتہائی خطرناک سمجھے جاتے ہیں جہاں بڑی تعداد میں ہیلتھ ورکروں، رضا کاروں اور ان کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکار حملوں میں ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں۔

ایمرجنسی آپریشن سیل کے مطابق رواں سال قومی سطح پر مجموعی طور پر 20 کیسز سامنے آچکے ہیں جبکہ گذشتہ سال پاکستان میں 306 بچے پولیو وائرس کا شکار ہوئے تھے جن میں سے 68 کا تعلق خیبر پختونخوا اور 179کا تعلق قبائلی علاقوں سے تھا۔

اسی بارے میں