رینجرز کو دھمکانے پر الطاف حسین کے خلاف مقدمہ

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption رینجرز کی اس کارروائی پر ایم کیو ایم کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا تھا

پاکستان کے شہر کراچی میں پیرا ملٹری فورس رینجرز نے ملک کی سیاسی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے۔

یہ مقدمہ رینجرز کے ترجمان کرنل طاہر کی مدعیت میں سول لائنز تھانے میں درج کیا گیا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق رینجرز حکام نے متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما الطاف حسین پر تضحیک آمیز گفتگو کرنے اور قتل کی دھمکیاں دینے کا الزام عائد کیا ہے۔

ایم کیو ایم فرشتوں کی جماعت نہیں

الطاف حسین کے خلاف مقدمہ انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت درج کیا گیا ہے اور مقدمے میں انسداد دہشت گردی کی دفعہ 7 اور تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 506 شامل ہے۔

دوسری جانب ایم کیو ایم کا کہنا ہے کہ الطاف حسین کے خلاف مقدمے میں لگائے گئے الزامات حقائق کے منافی ہیں۔

گذشتہ ہفتے رینجرز نے کراچی میں ایم کیو ایم کے ہیڈ کوارٹر نائن زیرو پر چھاپہ مارا تھا۔ رینجرز حکام نے ایم کیو ایم کے دفتر پر چھاپے کے دوران قتل کے جرم میں سزا یافتہ مجرم سمیت متعدد افراد کو گرفتار کیا تھا اور ناجائز اسلحہ بھی اپنے قبضے میں لینے کا دعویٰ کیا تھا۔

رینجرز کی اس کارروائی پر ایم کیو ایم کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا تھا، اور ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین سمیت دیگر رہنماؤں نے اس کی شدید مذمت کی تھی۔

رینجرز کے کرنل طاہر کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں کہا گیا ہے کہ جیو ٹی وی کے ایک پروگرام میں الطاف حسین نے کہا تھا کہ نائن زیرو پر جنھوں نے ریڈ کیا وہ ’تھے‘ ہو جائیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption الطاف حسین نے کہا تھا کہ نائن زیرو پر جنھوں نے ریڈ کیا وہ ’تھے‘ ہو جائیں گے

لندن اور پاکستان میں ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ مقدمے کے اندراج کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد ہی قانونی حکمتِ عملی بنائی جائے گی۔

ایم کیو ایم کے تحریری بیان کے مطابق الطاف حسین نے ماضی میں بھی مقدمات کا سامنا کیا اور اب بھی آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے قانونی دفاع کریں گے۔رابطہ کمیٹی نے تمام کارکنوں کو پرامن رہنے کی ہدایت کی۔

سابق صدر آصف علی زرداری نے ایم کیو ایم کے رہنما الطاف حسین سے رابطہ کر کے مجموعی سیاسی صورتحال پر بات چیت کی ہے۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ پیپلز پارٹی ایم کیو ایم کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتی ہے۔

ایم کیو ایم کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے مفاہمت اور بہتر ورکنگ ریلیشن شپ پر اتفاق کا کیا ہے۔ ایم کیو ایم کے سندھ حکومت میں شمولیت پر بھی تفصیلی بات چیت ہوئی۔

ادھر رینجرز نے غیر قانونی اسلحہ رکھنے کی پاداش میں ایم کیو ایم کے گرفتار کیے جانے والے کارکنان کے خلاف عزیز آباد تھانے میں مختلف دفعات کے تحت مقدمات بھی درج کروا دیے ہیں۔

گذشتہ بدھ کو چار گھنٹے تک جاری رہنے والے آپریشن میں رینجرز اہلکاروں نے عزیز آباد میں واقع ایم کیو ایم کے ہیڈکوارٹر نائن زیرو اور خورشید بیگم میموریل ہال اور اطراف سے بڑی تعداد میں غیر قانونی اسلحے کی برآمدگی اور سزا یافتہ مجرموں اور ٹارگٹ کلرز کو حراست میں لینے کا دعویٰ کیا تھا۔

حراست میں لیے جانے والوں میں ایم کیو ایم کے رہنما عامر خان کے علاوہ صحافی ولی خان بابر کے قتل کے جرم میں سزائے موت پانے والا مجرم فیصل موٹا بھی شامل تھا۔

دوسری جانب وزیرِ داخلہ چوہدری نثار کا کہنا ہے کہ رینجرز نے کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ کے ہیڈکوارٹر پر چھاپے کے دوران قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کارروائی کی جبکہ ایم کیوایم نے اس واقعے کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

اسی بارے میں