شکیل آفریدی کے سابق وکیل قاتلانہ حملے میں ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شکیل آفریدی کے سابق وکیل سمیع اللہ آفریدی دھمکیاں ملنے کے بعد مقدمے سے دستبردار ہو گئے تھے

پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن تک پہنچنے میں مبینہ طور پر امریکہ کی معاونت کرنے والے پاکستانی ڈاکٹر شکیل آفریدی کے سابق وکیل سمیع اللہ آفریدی کو پشاور میں منگل کی شام ایک مسلح حملے میں ہلاک کردیا گیا۔

پولیسں کا کہنا ہے کہ پشاور کے علاقے متھرا تھانے کی حدود میں نامعلوم افراد نے گاڑی پر فائرنگ کی جس سے سمیع اللہ آفریدی موقع پر ہلاک ہو گئے۔

فائرنگ کا یہ واقعہ پجگی روڈ پر پیش آیا۔ متھرا تھانے کے ایک پولیس اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ فائرنگ کا واقعہ اُس وقت پیش آیا جب سمیع اللہ آفریدی اپنے گھر جارہے تھے۔

اطلاعات کے مطابق کالعدم تنظیم تحریکِ طالبان پاکستان جماعت الاحرار کے ترجمان احسان اللہ احسان نے اپنی تنظیم کی جانب سے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

دھمکیاں ملنے پر شکیل آفریدی کے مقدمے سے دستبردار

سمیع اللہ آفریدی ڈاکٹرشکیل آفریدی کے خلاف مقدمہ میں اُن کے وکیل تھے لیکن کچھ عرصے قبل وہ اس مقدمے سے دستبردار ہو گئے تھے۔ سمیع اللہ آفریدی کا کہنا تھا کہ انھیں مبینہ طور پر دھمکیاں مل رہی ہیں۔

اس سے قبل پولیس پولیس کا کہنا تھا کہ فوری طور پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ سمیع اللہ آفریدی کو شکیل آفریدی کے مقدمے کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا۔

سابق وکیل دفاع سمیع اللہ آفریدی کچھ عرصہ قبل ملک سے باہر چلے گئے تھے اور وہ حال ہی میں پاکستان واپس آئے تھے۔ سمیع اللہ آفریدی کی دستبرداری کے بعد اب قمر ندیم ایڈوکیٹ ڈاکٹر شکیل آفریدی کے مقدمے لڑ رہے ہیں۔

خیال رہے کہ خیبر ایجنسی کی انتظامیہ نے مئی 2012 میں ڈاکٹر شکیل آفریدی کو شدت پسندوں کی معاونت کرنے اور سکیورٹی فورسز کے خلاف سازباز کرنے کے الزام میں ایف سی آر کے قانون کے تحت 33 سال قید بامشقت کی سزا سنائی تھی۔

ملزم پر یہ الزام بھی ہے کہ انھوں نے پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی تلاش میں امریکہ کی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کو مبینہ طور پر معاونت فراہم کی تھی۔

ڈاکٹر شکیل آفریدی نے فوکس ٹی وی کو ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ انھیں معلوم نہیں تھا کہ سی آئی اے بن لادن کو نشانہ بنائے گی اور نہ ہی انھیں یہ معلوم تھا کہ ان کے کام کی وجہ سے کسی مخصوص شخص کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں